اپنا مسئلہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۲۹
اپنا مسئلہ
بعض باتیں قواعد زبان کے اعتبار سے بظاہر درست نظر آتی ہیں مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ بالکل غلط ہوتی ہیں۔ اس کی ایک مثال لیجئے ۔ انقلابی اسلام کے ایک علم بردار نے اپنے نظریہ کو اس سوال و جواب کی صورت میں بیان کیا ہے :
زمین کس کی ہے اللہ کی پھر زمین میں کس کا قانون چلنا چاہیے اللہ کا اس نظریہ نے بہت سے مسلم نوجوانوں کو اس فریب میں ڈال دیا کہ ہمارا مقصد " عالمی حکومت الہیہ" قائم کرنا ہے۔ وہ بندوق لے کر نکل پڑے ہیں کہ لوگوں کو مار مار کر خدا کی زمین پر خدا کا قانون جاری کریں۔ ان میں سے جن لوگوں کے لیے بندوق سنبھالنے کے مواقع نہیں ہیں، وہ الفاظ کو بندوق کی گولی کا بدل بنائے ہوئے ہیں۔ مگر یہ ایک طبع زاد نظریہ ہے۔ شاعرانہ مضمون کی طرح کچھ لوگوں نے خود ساختہ طور پر اس کو گھڑ لیا ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں۔ قرآن کے مطابق ، زمین پر خدا کی حکومت اول دن سے قائم ہے، اسے قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ قرآن کی روشنی میں غور کیجئے تو صحیح بات یہ قرار پائے گی : زمین پر کس کا حکم چل رہا ہے اللہ کا پھر آدمی کو کس کا حکم ماننا چاہیے اللہ کا حکم ماننا چاہیے حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ زمین کا نہیں، مسئلہ اپنی ذات کا ہے۔ ہر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو زمین و آسمان کی طرح خدا کے حکم کا پابند بنائے ۔ وہ اپنی ذات کو اسی طرح خدا کا مطیع بنا لے جس طرح بقیہ کائنات خدا کی مطیع بنی ہوئی ہے ( آل عمران ۸۳ )
‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues