Al-Risala · July 1992 · page 30

اپنا مسئلہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۳۰

مسئلہ کا حل

مولاناسعیدا حمد اکبرآبادی (۱۹۸۵- ۱۹۰۸) اپنی آخر عمر تک ماہنامہ 'برہان' (دہلی) کے ایڈیٹر تھے۔ انھوں نے ایک بار اپنے اداریہ کے صفحات میں لکھا تھا:

" ہمارے عزیز دوست ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی جو معاشیات میں ڈاکٹر ہیں، وہاں مسلمان طلباء کی انجمن کی دعوت پر اسلام پر مختلف مراکز میں لکچر دینے کی غرض سے امریکہ گئے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں شکاگو سے ان کا ایک خط آیا ہے جس میں تحریر فرماتے ہیں: ہندوستان میں گزشتہ پچیس برس میں ہم نے مسلمانوں نے، احتجاج کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ لیکن یہاں کے مسلمان مجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ اس مدت میں ہم نے کوئی تعمیری (positive) اور مثبت کام بھی کیا ہے؟ اگر کیا ہے تو وہ کیا ہے؟ یہ سن کر سخت شرمندگی ہوئی ہے۔ آپ از راہ کرم اس پر توجہ کیجئے۔ راقم الحروف نے اس کے جواب میں ڈاکٹر نجات اللہ صاحب کو لکھا ہے کہ آپ نے یہ وہی بات لکھی ہے جس کو میں شروع سے کہتا اور لکھتا چلا آرہا ہوں، لیکن افسوس، یہاں کے مسلمانوں میں اجتماعی اور قومی سطح پر مثبت اور تعمیری کام کرنے کا کوئی جذبہ ہی نہیں ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ لیڈرشپ بالکل نکمی اور ناکارہ ہے، اس کے پاس نہ دل ہے نہ دماغ۔ ہواؤں پر اڑتی اور جلوسوں پر مبنی ہے۔ "

(برہان، دہلی، اکتوبر۱۹۷۷ء)

ان سطروں کے لکھے اور چھپے ہوئے ۲۰ سال ہو گئے۔ یہاں تک کہ وہ وقت قریب آگیا جبکہ ”۲۵ سال“ کی کہانی کو ۵۰ سال کی کہانی کا عنوان دیا جائے مگر وہی صورت حال بدستور ابھی تک باقی ہے۔ اس میں اضافہ کی نشاندہی تو کی جاسکتی ہے مگر اس میں کمی کی کوئی نشاندہی نہیں کی جاسکتی۔ یہ بات بذات خود صحیح ہے کہ لیڈرشپ کے ناکارہ ہونے کی وجہ سے یہ صورت حال پیدا ہوتی ہے مگر یہاں دوبارہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے درمیان ایسے لوگ آخر لیڈر کیسے بن جاتے ہیں جو لکل نکمے اور ناکارہ ہوں ۔ ایسے لوگوں کو ملت کے کوڑا خانہ میں جگہ ملنی چاہیے نہ کہ ملت کے قیادت کی مسند پر انھیں بٹھایا جائے۔

اس کی وجہ مسلم سماج کی بے شعوری ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان بے شعوری کی سطح پر جی رہے ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues

Printed page