اپنا مسئلہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۳۱
وہ صحیح اور غلط میں تمیز نہیں کر پاتے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو آدمی زیادہ جوشیلی تقریر کرتا ہے ۔ جو بڑے بڑے الفاظ بولنا جانتا ہے ۔ جو جھوٹی آرزوؤں اور فرضی خوش فہمیوں میں جینے کی خوراک فراہم کرتا ہے ، اس کے پیچھے ان کی بھیڑ دوڑ پڑتی ہے۔ کیونکہ وہ اپنی بے شعوری کی بنا پر لفظ اور حقیقت میں فرق کرنے کی تمیز نہیں رکھتی ۔
ایسی حالت میں کرنے کا پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو باشعور بنایا جائے جس دن مسلمان ایک باشعور گروہ بن جائیں گے اسی دن ناکارہ قیادت اپنی زمین کھو دے گی اور پھر وہ اپنے آپ ختم ہو کر رہ جائے گی نکی قیادت کو ختم کرنا ہے تو مسلمانوں کے بے شعور پن کو ختم کیجئے ۔ اس مسئلہ کا حل بالواسطہ طریق کار میں ہے نہ کہ براہ راست طریق کار میں ۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی کے لیے اس کی فطرت سب سے بڑی اور سب سے بہتر رہنما ہے ۔ جھوٹے لیڈر آدمی کو اس کی فطرت کے راستہ سے ہٹاتے ہیں اگر یہ نام نہاد لیڈر سامنے نہ رہیں تو ہر آدمی کی فطرت جاگ اٹھے گی اور جب فطرت زندہ اور بیدار ہو تو کسی رہنما کی کوئی ضرورت نہیں۔
مسلمانوں کے سلسلہ میں اس وقت کرنے کا اصل کام یہ نہیں ہے کہ یہ شکوہ کیا جائے کہ ان کے درمیان تعمیری اور مثبت قسم کی لیڈر شپ نہیں ہے۔ بلکہ اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر تعمیری اور مثبت ذہن بنایا جائے تاکہ ان کے درمیان تعمیری اور مثبت لیڈر شپ ابھر سکے ۔
حدیث میں آیا ہے کہ : کما تکونون كذلك يولى عليكم - یعنی جیسے تم ہو گے ویسے ہی تمہارے لیڈر ہوں گے ۔ موجودہ زمانہ میں جو غیر صحیح لیڈر شپ مسلمانوں کے اوپر مسلط ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ خود مسلمان کا مزاج غیر صحیح ہے۔ اگر مزاج صحیح ہو جائے تو ان کے درمیان لیڈر شپ بھی صحیح قسم کی ابھرے گی ۔ ہمارے کرنے کا اصل کام مزاج سازی یا ذہنی تعمیر ہے ۔ بقیہ چیزیں جو ہم چاہتے ہیں وہ اسی کا نتیجہ ہیں ۔ اس بنیادی کام کے بغیر ان کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues