اپنا مسئلہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۳۲
ایک سفر
۶ اکتوبر ۱۹۹۱ء کی شام کو مجھے ایک لمبے سفر پر روانہ ہونا تھا۔ دہلی سے چل کر روم اور مالٹا اور قاہرہ پہنچنا تھا اور وہاں سے پھر دہلی واپس آنا تھا۔ آج کا اخبار آیا تو اس کے پہلے صفحہ کی اس خبر پر نظر اٹک گئی کہ __ ہوائی حادثہ میں ۱۳۲ آدمی ہلاک ہوگئے ۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ انڈونیشی ایر فورس کے ایک جہاز میں اڑان بھرنے کے صرف تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا۔ وہ جکارتا کی ایک بلڈنگ پر گر پڑا۔ اس کے تمام ۱۳۲ مسافر جل کر مرگئے :
An Indonesian air force plane crashed and exploded shortly after take-off today, killing all 132 people on board. ایک تاجر کے بارہ میں ایک بار میں نے پڑھا کہ وہ کسی سفر پر جانے والا تھا۔ عین اسی دن ایک ہوائی حادثہ کی خبر ملی ۔ اس نے اپنا سفر منسوخ کر دیا۔ لیکن اگلے روز عین اس وقت اس کے دل کی حرکت بند ہو گئی جب کہ وہ اپنے محفوظ مکان میں کھانے کی میز پر بیٹھا ہوا صبح کی چائے پی رہا تھا۔ اگر ہم انسانی جہاز میں سفر نہ کریں تب بھی ہم ایک خدائی جہاز کے مسافر ہوتے ہیں۔ یہ ہمارا جسم ہے جس میں بیٹھ کر ہماری شخصیت زندگی کا سفر طے کر رہی ہے۔ جس لمحہ خدا کا حکم ہوگا جسم کی یہ سواری ٹوٹ پھوٹ جائے گی اور اس کے بعد ہماری شخصیت (روحانی وجود) اس سے نکل کر خدا کی عدالت میں حاضر کر دیا جائے گا۔ آدمی کو اگر اس حقیقت کا احساس ہو تو اس کو اپنے پرسکون مکان میں بیٹھنا بھی اسی طرح پرخطر دکھائی دینے لگے جس طرح کسی سمندری یا ہوائی سواری میں سفر کرنا۔ ۶ اکتوبر۱۹۹۱کی شام کو عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر دہلی ائیر پورٹ کے لئے روانہ ہوا۔ میرے ساتھ ثانی اثنین بھی تھے۔ ہماری گاڑی مانوس راستوں سے گزرتی ہوئی پرسکون طور پر آگے بڑھ رہی تھی ۔ اور میرے ذہن میں خیالات کا طوفان برپا تھا۔ ایک لمحہ کے لئے مجھے محسوس ہوا کہ میرا دماغ ایک قسم کی کنورٹنگ مشین ہے جس میں دنیا کا ہر غم آخرت کے غم میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ میرا یہ مزاج اتنا بڑھا ہوا ہے کہ میرا دماغ خوشی کے واقعہ کو بھی غم میں بدلتا ہے ، تاکہ دوبارہ اس کو غم آخرت میں ڈھال سکے ۔ دنیا میرے لئے ایک تجربہ ٔغم تھی۔ کاش اللہ اپنی رحمت سے آخرت کو میرے لئے تجربہ مرت 32 اللسان، جولائی ۱۹۹۲
‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues