Al-Risala · July 1992 · page 33

The end of one journey is the start of another.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۳۳

بنا دے۔

ایئر پورٹ کے اندر داخل ہوا تو وہاں کی دنیا حسب معمول نظر آئی۔ یہاں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ یہاں کوئی مقیم نہ تھا۔ یہاں کا ہر شخص مسافر تھا۔ میں نے لوگوں کے چہروں کو پڑھنے کی کوشش کی۔ کچھ لوگوں کی بات چیت کو سنا۔ میرے دل نے کہا کہ ان لوگوں کو سفر حیات کی خبر ہے۔ مگر انھیں سفر موت کی کوئی خبر نہیں۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو اپنے آغاز کو جانیں مگر وہ اپنے انجام کے بارہ میں بالکل بے خبر بنے ہوئے ہوں۔

دہلی سے الیطالیہ کی فلائٹ ۷۸۷ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ سروس ہر اعتبار سے اچھی تھی۔ جہاز کے اندر الیطالیہ کا میگزین ULISSE پڑھا۔ ایک مضمون میں یہ مقولہ نقل کیا گیا تھا کہ ۔ ایک سفر کا خاتمہ دوسرے سفر کا آغاز ہے:

The end of one journey is the start of another.

میگزین میں یہ مقولہ الیطالیہ کے کر شیل ہوائی جہازوں پر چسپاں کیا گیا تھا جو ہر سفر کے خاتمہ پر دوسرے سفر کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر یہ مقولہ زیادہ بہتر طور پر انسانی زندگی کے اوپر چسپاں ہوتا ہے۔ جب آدمی کی موت آتی ہے اور اس کی ایک زندگی بظاہر ختم ہو جاتی ہے تو یہ خاتمہ سادہ معنوں میں صرف خاتمہ نہیں ہوتا بلکہ ایک وسیع تر دور حیات کا آغاز ہوتا ہے۔

یہ جہاز بوئنگ ۷۴۷ تھا۔ اس کے اندر ۱۹۲ سیٹیں تھیں۔ جہاز کا سفر موجودہ زمانہ میں ایک عام ذریعہ سفر بن چکا ہے۔ مگر میں جب بھی ہوائی جہاز میں سفر کرتا ہوں تو میرے اندر سخت استعجاب کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کیسی عجیب رحمت ہے کہ اس نے موجودہ دنیا میں ایسے امکانات رکھے جو ہوائی جہاز کی صورت میں ڈھل جائیں اور انسان کے سفر کو حیرت ناک حد تک تیز رفتار بنا دیں۔

خدا نے ایسا نہیں کیا کہ وہ بنے بنائے ہوائی جہاز انسان کو دیدے۔ بلکہ اس نے زمین میں ہوائی جہاز کے امکانات رکھے اور یہ انسان کے اوپر چھوڑ دیا کہ سیکڑوں سال کی تحقیق اور جستجو کے بعد وہ ایک واقعی جہاز بنا سکے۔

یہ اللہ تعالیٰ کی ایک سنت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کو انسان کے لئے اکتشافی طریقہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues

Printed page