Al-Risala · July 1992 · page 34

The end of one journey is the start of another.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۳۴

(discovery method) پسند ہے۔ یہی طریقہ اس نے دین میں بھی رکھا ہے۔ دین اپنی حقیقت کے اعتبار سے اتنا واضح ہے کہ اس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے (اليلها كنهارها) مگر اللہ نے دین پر التباس (الانعام 9) کا پردہ ڈال دیا ہے۔ یہ ایک تدبیر ہے جس کا مقصد انسان کے ذہن کو متحرک کرنا ہے۔ یہ اس لئے ہے تاکہ آدمی اپنی فکری قوتوں کو عمل میں لا کر اس پردہ کو پھاڑ سال دین کو ذاتی معرفت کی سطح پر دریافت کرے۔

پچھلی رات میں دہلی میں سو نہیں سکا تھا۔ جہاز میں داخل ہوا تو نیند اور تکان کا سخت غلبہ تھا۔ چنانچہ جلد ہی نیند آگئی۔ میں لیٹ گیا اور گہری نیند سوتا رہا۔ دہلی سے روم کی پرواز مسلسل ۹ گھنٹے کی ہے، مگر اس کا بڑا حصہ سونے میں گزر گیا۔ اور ایک تھکا دینے والا سفر بآسانی طے ہو گیا۔ جسم اسی طرح خود کار نظام کے تحت کھوئے ہوئے کی تلافی کرتا ہے۔ تلافی (compensation) فطرت کا ایک مستقل اصول ہے۔ مثلاً کسی آدمی کے جسم سے اس کا ایک گردہ نکال دیا جائے تو دوسرا گردہ اپنے آپ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اتنا بڑا ہو جاتا ہے کہ تنہا پورے جسم کی ضرورت کو پوری کر سکے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا کا پسندیدہ طریقہ کیا ہے۔ وہ تلافی مافات کا طریقہ ہے۔ اس کے مطابق اگر کوئی قوم دوسری قوموں سے پچھڑ جائے تو اس کے لئے فطری طریقہ یہ ہوگا کہ وہ سب سے پہلے اپنی کمی کی تلافی کرے۔ کمی کی تلافی کے بغیر اقدام کرنا فطرت کے مقررہ طریقہ کے خلاف ہے۔ اور جو لوگ فطرت کے طریقہ کے خلاف عمل کریں ان کا ناکام ہو جانا یقینی ہے۔

9 گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد جہاز، اکتوبر کی صبح کو روم میں اتر گیا۔ لینڈنگ نہایت ہموار تھی۔ جس کانفرنس میں مجھے شرکت کرنا ہے وہ اگر چہ مالٹا میں ہے مگر اس کے نمائندہ ڈاکٹر پالو مبیDr (Dr Leonardo Polombi) دو آدمیوں کے ساتھ روم ایرپورٹ پر ہماری رہنمائی کے لئے موجود تھے۔ یہ کانفرنس ویٹیکن کے ماتحت ایک اطالوی ادارہ (CXomunity of S. Egidio) کی طرف سے کی جارہی ہے۔

ہمارے اخبارات و رسائل میں ویٹیکن اور دوسرے مسیحی اداروں کے بارہ میں صرف یہ چھپتا ہے کہ وہ اسلام کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ مگر طریق کار کے اعتبار سے ان کے یہاں جو اعلیٰ نمونہ ہے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues

Printed page