The end of one journey is the start of another.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۴۱
ملاقاتوں کے بعد اکثر ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی مرکز کا پیغام ایسے ایسے مقامات پر پہنچ رہا ہے، جن کی بابت ہم نے سوچا بھی نہیں تھا۔ مثلاً سفر کے دوران ڈنمارک کے ایک صاحب ملے۔ انھوں نے بتایا کہ ہم نے آپ کا انگریزی الرسالہ اور انگریزی کتابیں پڑھی ہیں۔ وہ ہمارے سنٹر کی لائبریری میں موجود ہیں۔ اور لوگ ان کو شوق سے پڑھتے ہیں۔ ان کا نام اور پتہ یہ ہے:
Sheikh Mohammed Idris, Islamic Cultural Centre, Morsebakken 2, Copenhagen 2400 NV (Tel. 01609017)
روم کے تاریخی مقامات کو دیکھنے کے بعد دوبارہ ہم روم ائیرپورٹ پر واپس آگئے۔ یہاں ائیر پورٹ لاؤنج میں سنڈے ٹیلی گراف (۶ اکتوبر ۱۹۹۱) دیکھا۔ اس کے صفحہ ۲۶ پر ایک کالم ویٹیکنالوجی (Vaticanology) کا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ اٹلی اور انگلستان کے سفیر سے ملاقات کرتے ہوئے پوپ جان پال دوم (Pope John Paul II) نے چرچ کی طرف سے تشدد اور تخویف کے تمام اعمال کی ان الفاظ میں مذمت کی:
The Church continues to condemn all acts of violence and intimidation, from whatever source they originate. قدیم زمانہ میں ممکن تھا کہ تشدد کو صرف ظالم اور مفسد کے خلاف استعمال کیا جائے۔ مگر موجودہ زمانہ میں ٹیکنکل ترقیوں نے اس کو نا ممکن بنا دیا ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے دور میں تشدد ایک ایسا ہلک عمل بن چکا ہے جو فاتح اور مفتوح دونوں کو برباد کر دیتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ خود زمین کو نا قابل رہائش بنا دینے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس اور امریکہ اپنے ہتھیاروں کو فناکرنے کے معاہدے کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں جو مسلمان تشدد اور مسلح انقلاب کی بات کرتے ہیں وہ ایک قسم کی خلاف زمانہ حرکت (anachronism) میں مبتلا ہیں۔ وہ اسلام کو بھی وہیں پہنچا دینا چاہتے ہیں جہاں وہ خود اپنی فکری
‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues