The end of one journey is the start of another.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۴۲
پسماندگی کی بنا پر کھڑے ہوئے ہیں۔
روم سے مالٹا کے لئے الیتالیا کی فلائٹ ۴۹۰ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز کے اندر الیتالیا کامیگزین (Arrivederci) دیکھا۔ اس کے ایک صفحہ پر اٹلی کے ایک خوبصورت مکان کی رنگین تصویر تھی جس کے ساتھ خوبصورت تر گارڈن بھی شامل تھا۔ اس پر کشش تصویر کو دیکھ کر میری زبان سے نکلا : دنیا جنت کی ناقص تصویر ہے اور جنت اس کی کامل تصویر ۔ دنیا ان کمپلیٹ ہے اور جنت کمپلیٹ۔ روم سے روانگی کا وقت ایک بج کر ۴۵ منٹ تھا۔ مگر روانگی میں آدھ گھنٹہ کی تاخیر ہو گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آخر وقت میں معلوم ہوا کہ جہاز کے نظام میں کوئی تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی ہے۔ فوراً انجینئر بلایا گیا۔ دو آدمی دیر تک کام کرتے رہے۔ جب نظام کی اصلاح ہو گئی، اس کے بعد جہاز روانہ ہوا۔ میں نے سوچا کہ جہاز کے فنی نظام میں خرابی کا علم پرواز سے پہلے ہونا اور اس کا علم پرواز کے دوران ہونا دونوں میں لفظی طور پر بہت کم فرق ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پرواز سے پہلے اس کا علم ہو نا اگر زندگی ہے تو پرواز کے دوران اس کا علم ہونا موت۔ یہی معاملہ قوموں کا ہے۔ جس قوم کے لیڈر اقدام سے پہلے قوم کی کمیوں کو جان لیں وہ قوم کو زندگی کی نعمت عطا کرتے ہیں۔ اور جس قوم کے لیڈر اقدام کے بعد قوم کی کمیوں اور کمزوریوں کو جانیں وہ قوم کو صرف ہلاکت کے گڑھے میں گرانے کا سبب بنتے ہیں۔
روم اور مالٹا کے درمیان سسلی واقع ہے۔ مالٹا جاتے ہوئے ہم جزائر سسلی کے اوپر سے گزرے۔ جہاز کی کھڑکی سے وہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ چنانچہ میں اس کو دیر تک دیکھتا رہا۔ میں نے سوچا کہ ہمارے اسلاف جزائر سسلی میں اترے اور اس کے تہذیب و تمدن کی ترقیاں عطا کیں ۔ میرے لئے صرف یہ مقدر تھا کہ میں اس کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے گزروں۔ کیسا عجیب فرق ہے ماضی اور حال میں۔
سسلی میڈیٹرینین کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ اس وقت وہ اٹلی کا ایک حصہ ہے۔
قدیم زمانہ میں سسلی مختلف قوموں کے ماتحت رہا ہے۔ لندن کی چھپی ہوئی ایک قدیم انسائیکلو پیڈیا (The Book of Knowledge) میں یہ الفاظ درج ہیں کہ نویں صدی میں مسلمانوں کی آمد کے بعد سسلی عرب کلچر اور عرب علم کا مرکز بن گیا تھا۔ نارمنوں نے ان کو گیارھویں صدی میں یہاں سے
‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues