Peace is one of the names of God.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۴۵
اس کی ایک وجہ کانفرنس کے تجربہ میں سمجھ میں آئی۔ میں نے دیکھا کہ یہودی اور مسیحی علماء نہایت اعلیٰ سطح پر اپنے مذہب کی نمائندگی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ عالمی زبانوں میں اپنے مذہب کی وکالت اس طرح کر رہے ہیں جس سے ان کے ہم قوم خوش ہو جائیں۔
یہی خصوصیت اگر مسجد کے امام اور مدرسہ کے مولوی کے اندر آجائے تو وہ بھی مسلمانوں کے اندر اونچا درجہ حاصل کر لے گا۔ مثلاً یہ لوگ اگر انگریزی سیکھ لیں اور مشترک اجتماعات میں انگریزی زبان میں اسلام کی اعلیٰ نمائندگی کرنے کے قابل ہو جائیں تو قوم کے اندر انھیں بھی اعلیٰ رتبہ حاصل ہو جائے گا۔
شام کی آخری کارروائی ساڑھے تین بجے شروع ہوئی۔ کانفرنس کے منتظمین اس کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ کیوں کہ ان کے نزدیک یہی پوری کانفرنس کا اصل خلاصہ ہوتا ہے۔
پہلے کار کے ذریعہ ہم کو ایک مقام پر پہنچایا گیا۔ یہاں قدیم انداز کا ایک بہت بڑا گیٹ تھا۔ اس پر لکھا ہوا تھا : باب البلد (Bieb il-Belt) گیٹ کے دوسری طرف سیدھی لمبی سڑک تھی۔ اس سڑک سے ہم کو گزرنا تھا۔ تقریباً ایک کلومیٹر تک سڑک کے دونوں طرف بے شمار عورت اور مرد کھڑے ہوئے تھے۔ گیٹ پر پہنچتے ہی لوگوں نے خوش آمدید کے انداز میں تالیاں بجانی شروع کیا اور سارے راستے میں مسلسل بجاتے رہے۔ یہ منظر دیکھ کر میرا دل بھر آیا۔ میری زبان سے نکلا : کیسے عجیب خوش قسمت ہوں گے وہ لوگ جن کا استقبال جنت کے دروازہ پر کیا جائے۔
پروگرام کے مطابق ہر مذہب کے لوگوں کو مخصوص مقامات پر پہنچ کر اپنے اپنے انداز میں عبادت اور دعا کرنا تھا۔ چنانچہ مسیحی حضرات ایک چرچ میں داخل ہو گئے۔ ہم مسلمان تقریباً دس کی تعداد میں تھے۔ آگے پہنچے تو ایک بہت بڑے محل نما مکان کے صحن میں قالین بچھے ہوئے تھے۔ ہم لوگ یہاں بٹھا دیے گئے۔
یہاں نصیحت اور تذکیر کے انداز میں باتیں ہوئیں۔ سوڈان کے ایک عالم نے کہا کہ یہاں ہم کو اذان دینا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ صوفیاء نے اذان کے الفاظ کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ اللہ نے اس مقام پر تجلی فرمائی ہے اس لئے تم لوگ یہاں آؤ (ان الله سبحانه وتعالی تجلی في هذا المكان فهلموا اليه) اس کے بعد انھوں نے کھڑے ہو کر اپنے مخصوص لہجہ میں اذان دی۔ تقریباً اتنی
‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues