Peace is one of the names of God.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۴۶
ہے کہ اس محل میں یہ پہلا واقعہ تھا کہ یہاں اذان کی آواز گونجی۔
یہاں ہم لوگوں نے شیخ طنطاوی کی امامت میں مغرب کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد سوال وجواب کے انداز میں دیر تک مجلس رہی۔ اس میں زیادہ تر دو آدمیوں نے حصہ لیا۔ ایک ایرانی عالم سوال کرتے رہے اور شیخ طنطاوی سنجیدہ علمی انداز میں ان کا جواب دیتے رہے۔ زیادہ تر سوالات "جہاد" کے مسئلے سے تعلق رکھتے تھے۔ شیخ طنطاوی کا نظریہ تھا کہ جہاد بمعنی قتال صرف دفاع کے لئے ہے۔ جب کہ ایرانی عالم کو اس سے اختلاف تھا۔
شروع سے آخر تک اس نشست میں تقریباً تین گھنٹے لگے۔ اس پوری مدت میں مسیحی حضرات بڑی تعداد میں ہمارے چاروں طرف ہاتھ باندھے کھڑے رہے۔ ہماری مجلس کی ساری کارروائی عربی زبان میں تھی۔ اس لئے وہ اس کو سمجھ نہیں سکتے تھے تاہم مذہبی احترام کے جذبہ کے تحت وہ مسلسل خاموش کھڑے رہے۔ اسی طرح کھڑے ہو کر انہوں نے ہماری باجماعت نماز کو بھی دیکھا۔ یہ مسیحی حضرات جس انہماک اور عقیدت کے ساتھ ہماری نماز کو دیکھ رہے تھے اس کے بارہ میں سوچتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ نماز باجماعت اپنی ذات میں ایک مکمل تبلیغ ہے۔ نمازی کے لئے وہ عبادت ہے اور دیکھنے والوں کے لئے دعوت۔
قرآن میں ہے کہ جن وانس کو صرف اللہ کی عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے (الذاریات ۵۶) عبادت کی سب سے اعلیٰ اور کامل صورت نماز ہے۔ غور کیجئے تو انسان کی نفسیات اور اس کا جسمانی ڈھانچہ اس طرح ہے گویا وہ نماز پڑھنے ہی کے لئے بنایا گیا ہو۔ ایسی حالت میں جب ایک غیر مسلم مسلمانوں کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھتا ہے، خاص طور پر جماعت کی نماز، تو اس کا پورا وجود خاموش طور پر کہہ اٹھتا ہے کہ یہی وہ چیز ہے جس کو میری فطرت مانگ رہی تھی۔ وہ نماز کو خود اپنی اندرونی طلب کا جواب سمجھنے لگتا ہے۔ اس طرح نماز کو دیکھنا اس کے لئے ایک عملی تبلیغ بن جاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بہت سے لوگ نماز کو دیکھ کر مسلمان ہو گئے۔ اس کی وجہ یہی ہے۔ ان کا وجود پہلے سے نماز جیسی ایک چیز کا طالب تھا۔ جیسے کوئی پیاسا آدمی پانی کا طالب ہو۔ جب انہوں نے نماز کو دیکھا تو انہیں محسوس ہوا کہ یہ ان کے اپنے ہی اندرونی تقاضے کا خارجی مظاہرہ ہے۔ اس احساس کے تحت انھوں نے بڑھ کر اس کو اختیار کر لیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues