Peace is one of the names of God.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۴۸
میں اردو، ہندی، انگریزی تینوں زبان کے رسالے شامل ہیں۔
مولانا اے ندوی (درنگ) نے " انسان اپنے آپ کو پہچان" کا ترجمہ آسامی زبان میں کرکے کتاب کی صورت میں شائع کیا ہے۔ رضا الدین احمد صاحب (درنگ) نے بتایا کہ اس ترجمہ کو عام طور پر پسند کیا گیا۔ لوگوں نے کہا کہ یہ تو صرف ایک کتاب ہے۔ اب آپ اس سلسلہ کی تمام کتابوں کو اور تذکیر القرآن کو بھی آسامی زبان میں ترجمہ کرکے چھاپیں ۔
محمد امتیاز احمد صاحب (پیدائش ۱۹۶۳، بہار شریف، (نالندہ) کے رہنے والے ہیں۔ وہ عرصہ سے الرسالہ کے قاری ہیں۔ اب ان کے اندر جذبہ پید اہوا کہ کچھ کام کریں۔ چنانچہ انھوں نے اپنے یہاں دینی کتابوں کی دکان کھول لی۔ اسی کے ساتھ انھوں نے الرسالہ کی ایجنسی بھی لے لی ہے اور الرسالہ مطبوعات بھی اپنے یہاں رکھ رہے ہیں۔ آئینہ راعین ایک ہفت روزہ پرچہ ہے جو مراد آباد سے نکلتا ہے۔ اس کے صفحات میں اکثر الرسالہ کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اس طرح بہت سے پرچے حوالہ یا حوالہ کے بغیر الرسالہ کے مضامین شائع کر رہے ہیں۔
مولانا عبدالرحیم بڈیڈوی نے بتایا کہ بڑیڈ (ضلع گوڑ گاؤں) کی مسجد میں وہ ہر روز نماز فجر کے بعد کچھ نصیحت کی بات کرتے ہیں۔ آجکل وہ روزانہ "الربانیہ" کے ایک صفحہ کا مضمون نمازیوں کو بتاتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے لوگ مسجدوں میں الرسالہ کے مضامین یا کتابوں کے ذریعہ لوگوں کی ذہنی تربیت کر رہے ہیں۔
مسٹر حسن (بستی پور) لکھتے ہیں: الرسالہ ہم کو بہت پسند ہے۔ اس کی کچھ کاپیاں ہم اپنے رشتہ داروں کے ذریعہ انگلینڈ بھیج رہے ہیں تاکہ وہاں وہ اپنے احباب میں تقسیم کریں۔ الرسالہ یقیناً وہاں بھی مقبول ہو گا۔ کیوں کہ اس کی سادہ اور صاف تحریر سیدھی دل میں اتر جاتی ہے۔ الرسالہ حقیقت تک پہنچنے کا سیدھا، آسان اور پرکشش راستہ بتاتا ہے وہ لوگوں کی کردار سازی میں مدد دیتا ہے۔ وہ حق کی پہچان کراتا ہے اور انسانوں کا بھلا چاہتا ہے۔ میں نے ہندی الرسالہ بھی ایک غیر مسلم پڑوسی کو دیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues