تدبیر کی تبدیلی
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۱
والا نہیں۔ مبنی بر خویش حل سے میری مراد صرف صبر و اعراض ہے۔ اس مسئلہ کا واحد یقینی حل صبر و اعراض ہے۔ یہ حل وہ ہے جو مکمل طور پر مسلمانوں کے اپنے اختیار میں ہے۔ یہاں کسی دوسرے کے لیے یہ موقع نہیں کہ وہ اپنی حرکت لب یا جنبش قلم سے اس کو بے اثر بنا دے۔
صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے دشمنوں پر اس وقت تک غالب رہو گے جب تک تم میرے طریقہ کو پکڑے رہو۔ اگر تم میرے طریقہ سے ہٹ گئے تو اللہ تمہارے اوپر ایسے لوگوں کو مسلط کر دے گا جو نہ تم سے ڈریں گے اور نہ تم پر رحم کریں گے، یہاں تک کہ تم میری سنت کی طرف لوٹ آؤ :
لا زلتم منصورين علی اعدائکم مادمتَم متمسکین بسنتي ـ فإن خرجتم عن سنتی سلط اللّٰہ علیکم من لا یخافکم ولا يرحمكم حتى تعودوا إلى سنتي ۔
مسلمانوں کی موجودہ حالت حقیقہ ترک سنت کا نتیجہ ہے نہ کہ کسی دشمن کی سازش کا نتیجہ۔ فسادات کے پس منظر میں مسلمانوں نے جس سنت کو ترک کیا ہے وہ صبر و اعراض کی سنت ہے۔ اسی سنت کو چھوڑنے سے موجودہ صورت حال پیدا ہوئی ہے اور دوبارہ اسی سنت کو اختیار کر کے اس صورت حال کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسری تدبیر اس مسئلہ کو حل کرنے والی نہیں۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ بے صبری سے صبر کی طرف لوٹیں۔ وہ ٹکراؤ کو چھوڑ کر اعراض کی طرف واپس آئیں ۔ اشتعال انگیزی پرمشتعل ہو جانے کے بجائے وہ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونے کا طریقہ اختیار کریں۔ یہی پیغمبر اسلام کی سنت ہے اور اسی سنت میں کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔ مسلمانوں کو آج ایک ہجرت کرنا ہے۔ یہ تدبیری ہجرت ہے نہ کہ کوئی جغرافی ہجرت۔ اسی ہجرت میں ان کی کامیابی کا یقینی راز چھپا ہوا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues