صبر و تحمل کا کرشمہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۳
گئے ۔ بہت سے زخمی ہوئے مسلمانوں کی کئی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی ۔ جانی اور مالی دونوں نقصان صرف مسلمانوں کا ہوا۔
گنیش چتر تھی کا یہ جلوس اس سال بھی ۲۱ ستمبر ۱۹۹۱ کو نکالا گیا۔ مگر اس سال مسلمانوں نے جوش کے بجائے ہوش سے کام لیا۔ انھوں نے اس بار اعراض کرو اور کامیابی حاصل کر و “ کا فارمولا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ جلوس نے حسب معمول مسلم محلہ میں جابجا بجایا اور اشتعال انگیز نعرے بھی لگائے۔ مگر مسلمانوں نے نہ تو روٹ بدلنے کا مطالبہ کیا اور نہ وہ اشتعال انگیز باتوں پر مشتعل ہوئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جلوس سڑک پر چلتا ہوا گزر گیا ۔ مسلمانوں کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ علاقہ میں مکمل طور پر امن قائم رہا۔
موجودہ واقعہ پر مدراس کے انگریزی اخبار ہندو ( ۲۶ ستمبر ۱۹۹۱) نے جو رپورٹ چھاپی ہے وہ نہایت سبق آموز ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے سال کے برعکس ، اس سال جلوس کے واقعہ پر فساد نہ ہونے کا خاص سبب مسلمانوں کا صبر و تحمل کا رویہ تھا ، دو ہندو تنظیموں نے مسلمانوں کی تعریف کرتے ہوئے ہندوؤں کے جلوس کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ مذہب کے نام پر فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جلوس والوں نے اقلیتی فرقہ کے خلاف قابل اعتراض نعرے لگائے جن کا مذہب سے کوئی بھی تعلق نہیں تھا۔ انھوں نے مدراس پولیس کی بھی تعریف کی جس نے شہر کو نقض امن سے بچانے کی مؤثر تدابیر اختیار کیں (صفحہ ۳)
اس خبر پر غور کیجئے ۔ ایک ہی واقعہ ایک ہی محلہ میں دو بار ہوتا ہے ، ایک بار وہاں فساد ہو جاتا ہے ، اور دوسری بار فساد نہیں ہوتا۔ اس فرق کا سبب جلوس والوں کا رویہ نہیں ہے بلکہ محلہ والوں کا رویہ ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ فساد کا ہونا یا نہ ہونا تمام تر محلہ والوں کے اختیار میں ہے۔ وہ چاہیں تو ایک قسم کا رد عمل اختیار کر کے معاملہ کو فساد تک پہنچا دیں اور چاہیں تو دوسرے قسم کا رد عمل اختیار کر کے فساد کی جڑ کاٹ دیں۔
دوسرا سبق اس میں یہ ہے کہ مسلمان اگر ان مواقع پر مخالفانہ ردعمل کا مظاہرہ کریں تو معاملہ پولیس اور مسلمان کا بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ اعراض کا طریقہ اختیار کریں تو معاملہ جلوس والوں کا اور پولیس کا رہتا ہے۔ ایک صورت میں مسلمان پولیس کے نشانہ پر آ جاتے ہیں اور دوسری صورت
‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues