Al-Risala · September 1992 · page 14

صبر و تحمل کا کرشمہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۴

میں جلوس والے۔

تیسرا سبق یہ ہے کہ تحمل کا رویہ نہایت اثر کرنے والا رویہ ہے۔ چنانچہ مدرس کے مذکورہ واقعہ پر جب مسلمانوں نے تحمل کا رویہ اختیار کیا تو خود اکثریتی فرقہ کے اندر سے ایسے افراد اٹھے جنھوں نے جلوس والوں کی مذمت کی۔ اور مسلمانوں کی شرافت کا واضح طور پر اعتراف کیا۔ اخبارات میں مسلمانوں کو شاندار پر سراہا گیا اور دوسرے گروہ کو کنڈم کیا گیا۔

یہ سارا کرشمہ صرف ایک چیز کا تھا، اور وہ صبر ہے جس کو اخبار ہندونے اپنے تبصرہ میں برداشت (restraint) کا نام دیا ہے۔

مسئلہ کا حل

۱۹۴۷ء کے بعد کے دور میں ہندوستان نے مسلمانوں کے ذہن پر سب سے زیادہ جو مسئلہ چھایا رہا ہے، وہ فرقہ وارانہ فساد کا مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ مسلمانوں کو مستقل طور پر عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا رکھتا ہے۔ مگر مذکورہ واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ اس مسئلہ کا حل مسلمانوں کے اپنے اختیار میں ہے۔ مسلمان سادہ طور پر صرف یہ کریں کہ وہ کچھ نہ کریں، اور اس کے بعد یقینی طور پر وہ فساد کی مصیبت سے نجات پا جائیں گے۔

حدیث میں بتایا گیا ہے کہ صبر مومن کے لیے بچاؤ کا ذریعہ ہے (الصبر معول المومن) مذکورہ واقعہ، اور اس طرح کے دوسرے واقعات، اس قول رسول کی عملی تصدیق ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صبر و اعراض کی صورت میں اہل ایمان کو ایک ایسی ڈھال دے دی ہے جو بے خطا اپنا عمل کرتی ہے۔ جب بھی آپ صبر کی تدبیر اختیار کریں وہ آپ کے لیے یقینی بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گا۔

انسان عین اپنی پیدائشی ساخت کے مطابق اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ کسی کے خلاف زیادتی کرنے کے لیے جواز (justification) چاہتا ہے۔ جب آپ کسی کی اشتعال انگیزی پر مشتعل ہوں تو گویا آپ اس کو یہ جواز دے رہے ہیں کہ وہ آپ کے خلاف زیادتی کرے۔ لیکن جب آپ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہوں تو گویا آپ نے اس سے زیادتی کرنے کا جواز چھین لیا۔ یہ دوسرا رویہ مومن کے حق میں ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب آپ یہ دوسرا رویہ اختیار کریں تو اس کے بعد آپ اپنے حریف کی فطرت کو اپنا وکیل بنا لیتے ہیں۔ اس کے بعد آپ حریف کے

‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues

Printed page