Al-Risala · September 1992 · page 15

قرآن کی ہدایت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۵

اندر اپنا ایک حامی کھڑا کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد آدمی خود اپنی اندرونی کیفیت کے اعتبار سے مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ آپ کے خلاف زیادتی کرنے سے باز رہے۔ اور جو آدمی خود اپنے خلاف شکست کھا جائے وہ کوئی ظالمانہ اقدام کرنے کے لیے اسی طرح نااہل ہو جاتا ہے جس طرح ایک غبارہ ہوا نکلنے کے بعد اڑنے کے لیے۔

قرآن کی ہدایت

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر تم لوگ صبر کا طریقہ اختیار کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ ان سب کا احاطہ کیے ہوئے ہے (و ان تصبروا وتتقوا لا يضركم كيدهم شيئاً ان الله بما يعملون محيط) آل عمران ۱۲۰ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ وہ صبر اور تقویٰ کے ذریعہ شر پسندوں کے شر سے اور فاجروں کی سازش سے اپنے آپ کو بچائیں (یر شدھم الله تعالى الى السلامة من شر الاشرار وكيد الفجار باستعمال الصبر والتقوى) تفسیر ابن کثیر ۴۹۹/۱ صفوۃ التفاسیر میں ہے کہ اگر تم نے ان کی ایذا پر صبر کیا اور اپنے اقوال اور اعمال میں تم اللہ سے ڈرے تو ان کی سازش اور ان کی تدبیر تم کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ پس اللہ نے ان کے ضرر کو ختم کرنے کے لیے صبر اور تقویٰ کی شرط لگائی (ای إن صبرتم على اذاهم واتقيتم الله في اقوالكم وأعمالكم لا يضركم مكرهم وكيدهم - فشرط الله تعالى نضر ضرهم بالصبر والتقوى) ۲۳۶/۱ ہندوستان میں فرقہ پرستوں کے جلوس اور ان کے دل آزار نعروں کے سلسلہ میں صبر اور تقویٰ کا انطباق کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ مسلمان ان کی مشتعل انگیزی کے باوجود اشتعال نہ ہوں۔ وہ ان کی دل آزاری کو یک طرفہ طور پر برداشت کر لیں۔ وہ رد عمل کا اظہار کرنے کے بجائے خاموشی کا رویہ اختیار کریں۔ وہ ہمیشہ صبر کے رویہ پر قائم رہیں۔

دوسرے یہ کہ کسی حال میں بھی تقویٰ کی روش نہ چھوڑیں۔ ایسے مواقع پر دنیوی انجام سے زیادہ اخروی انجام کو وہ اپنے سامنے رکھیں۔ وہ قوم پرستی کے بجائے اصول پسندی کا انداز اختیار کریں۔ فریق ثانی کی دشمنی کے باوجود وہ اس سے ساتھ بے انصافی نہ کریں۔ وہ جو کچھ کریں یہ سمجھ کر کریں کہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues

Printed page