Al-Risala · September 1992 · page 16

قرآن کی ہدایت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۶

ان کو اللہ کے یہاں اس کا جواب دینا ہے۔ وہ اللہ کے معاملہ میں حساس اور انسانوں کے معاملہ میں غیرحساس بن جائیں۔

مسلمان اگر اس طرح صبر وتقویٰ کا طریقہ اختیار کریں تو یقینی طور پر مخالفین کی ہر سازش بے اثر ہو جائے گی۔ ہر مخالفانہ تدبیر ان کے حق میں ناکام ثابت ہوگی۔

مذکورہ آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ ان اللہ بما يعملون محيط (اللہ ان کی سرگرمیوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے) یہ فقرہ بہت با معنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے شرپسندوں کے شر سے بچاؤ کے لیے صبر و تقویٰ کے جس طریقہ کی تعلیم دی ہے وہ ایک ایسا طریقہ ہے جو معاملہ کے اوپر پوری طرح حاوی ہے۔ وہ یقینی طور پر ایک بے خطا طریقہ ہے۔ وہ کبھی ناکام ہونے والا نہیں۔

اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ وہ انسان کی سرشت اور اس کے مزاج سے پوری طرح باخبر ہے۔ اس نے جو اصلاحی اور دفاعی تدبیر بتائی ہے وہ اپنے علم کلی کے تحت بتائی ہے۔ اللہ کے لیے یہ ایک پوری طرح معلوم مسئلہ کا پوری طرح معلوم جواب ہے۔ یہ حل تمام متعلق پہلوؤں کا مکمل احاطہ کیے ہوئے ہے۔ کوئی بھی صورت حال ایسی نہیں جو اس کے دائرہ اثر سے خارج ہو۔

ان خصوصیات نے اس حل کو ایک بے خطا حل بنا دیا ہے۔ تم جب بھی اس کو استعمال کرو گے اس کا نتیجہ تمہارے حق میں ہی نکلے گا۔ کوئی بھی انسانی گروہ اس کے دائرہ سے باہر نہیں۔ شر انگیزی کی کوئی بھی آگ ایسی نہیں جو اس طریقہ کو کام میں لاکر بجھائی نہ جاسکتی ہو۔ اس تدبیر کے اندر ہر مجرم کو ناکارہ بنا دینے کی طاقت ہے ، خواہ بظاہر وہ کیسا ہی خطرناک بم کیوں نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues

Printed page