انسان، حیوان
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۷
انسان، حیوان
پٹنہ کی خدا بخش لائبریری سے ایک جرنل شائع ہوتا ہے۔ اس کے نمبر ۴۹ (۱۹۸۹) میں شری شیمر ناتھ پانڈے کا ایک مفصل مضمون چھپا ہے اس کا عنوان ہے ” ہندوستان میں قومی یک جہتی کی روایات “۔ یہ فخر الدین علی احمد میموریل لکچر کے تحت ۱۹۸۶ میں لکھنو کے ایک اجتماع میں پڑھا گیا تھا۔ اس لکچر کے آخر میں انھوں نے اپنا ایک ذاتی واقعہ بیان کیا ہے جو انھیں کے الفاظ میں یہ ہے : اکتوبر ۱۹۶۹ میں تمام ملک میں گاندھی جی کی پیدائش کا سو سالہ جشن منایا گیا۔ لیکن ہمارے ملک کی ایک فرقہ پرست جماعت نے اس موقعے کو فرقہ وارانہ فساد کے لیے چنا اور وہ بھی احمد آباد کے شہر کو، جہاں گاندھی جی نے ۱۹۱۵ میں اپنی قومی خدمات کی ابتدا کی تھی۔ اس وقت وہاں جس صوبائی پارٹی کی سرکار بر سر اقتدار تھی وہ مرکزی سرکار کے اثر سے باہر تھی۔ دنگائی بے خوف مکانوں کو جلاتے رہے، دکانوں کو لوٹتے رہے۔ اور معصوم انسانوں کا قتل کرتے رہے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گاندھی جی کے ساتھ وابستہ اس شہر سے انسانیت رخصت ہو چکی ہے۔ محترمہ وزیر اعظم اندر اگاندھی نے مجھ سے کہا کہ ” بہت سے لوگ وہاں گئے ہیں اور لوٹ کر مجھے اپنی رپورٹیں دی ہیں۔ لیکن مجھے تسلی نہیں ہوئی ہے ، میں چاہتی ہوں کہ آپ وہاں جائیں ، شہر میں گشت کریں اور اس بات کو دیکھیں کہ حیوانیت کے بیچ میں کیا وہاں انسانیت بھی زندہ ہے؟ “ میں احمد آباد گیا۔ قریب مہینے بھر وہاں رہا۔ زخمیوں سے اسپتال میں ملا مظلوموں کی درد ناک کہانیاں سن کر ان کے آنسو پونچھے۔ قریب چھ ہزار مکان جلا دیے گئے تھے۔ اور وہاں کی سرکار کے بیان کے مطابق ساڑھے تین سو آدمی، لیکن فوجی انٹیلی جنس کے آنکڑوں کے مطابق قریب دو ہزار آدمی، اس فرقہ وارانہ فساد میں شہید ہوئے مظلوموں کی کثیر تعداد اقلیتی فرقہ کی تھی۔ ایک دن گشت کرتا ہوا میں میمو بائی کی چال میں پہنچا۔ وہاں محلوں کو چال کہتے ہیں۔ میرے پہنچنے پر اس علاقے کے سو ڈیڑھ سو آدمی جمع ہو گئے۔ چال کے سبھی مکان جلے ہوئے تھے۔ دو چار مکانوں سے اب بھی دھواں نکل رہا تھا۔ میں نے ان سے سوال کیا۔ ” کیوں بھائیو! کیا یہ سب کے سب مکان مسلمانوں کے تھے؟ “ چالیس پینتالیس برس کی عمر کے ایک صاحب نے میری طرف مخاطب ہو کر کہا : ” جی نہیں، یہاں پینتیس گھر مسلمانوں کے تھے اور ۱۲۰ گھر ہندوؤں کے تھے “۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues