My way is to begin from the beginning.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۴
نہ کرے وہ ناکام و مراد ہو کر رہ جائے ۔ ایسی حالت میں کیوں کر ممکن ہے کہ ہماری کوششیں کامیابی کی منزل تک پہنچ سکیں ۔
قرآن میں قوموں کے عروج و زوال کا اصول نہایت واضح طور پر بتا دیا گیا ہے ۔ وہ یہ کہ قومیں خود اپنے عمل کی بنیاد پر اٹھتی ہیں اور اپنی ہی عملی کمزوریوں کی بنا پر تنزل کا شکار ہوتی ہیں ۔ قوموں کا ابھرنا بھی داخلی اسباب کے تحت ہوتا ہے اور ان کا گرنا بھی داخلی اسباب کے تحت (ان الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بانفسهم)
یہ ایک ایسا عالم گیر اصول ہے جس میں کوئی استثنا نہیں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اپنے آپ کو اس خدائی قانون کا مصداق بنائیں۔ وہ اپنی داخلی اصلاح کے لیے سرگرم ہو جائیں۔ وہ احتجاج غیر کے بجائے تعمیر خویش کی بنیاد پر اٹھنے کی کوشش کریں۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسری صورت نہیں جو ان کو فلاح اور ترقی کی طرف لے جانے والی ہو ۔
مسلمان اپنے قائدین کی رہنمائی میں اب تک جو کچھ کرتے رہے ہیں وہ زیادہ تر مطالبہ، احتجاج اور مظاہرہ کی سیاست ہے۔ انھوں نے اپنے ذاتی استحکام پر توجہ دینے کے بجائے دوسروں سے شکایت پر اپنی ساری توجہ مرکوز رکھی ہے۔ یہ طریقہ سراسر بے فائدہ ہے۔ وہ صرف مسائل کو بڑھانے والا ہے، وہ کسی بھی درجہ میں مسائل کو حل کرنے والا نہیں ۔
یہ دنیا مقابلہ کے اصولوں پر بنائی گئی ہے۔ یہاں کسی شخص یا کسی قوم کا مسئلہ ہمیشہ اس کی داخلی کمی کی بنا پر پیدا ہوتا ہے اور داخلی کمی کو دور کر کے ہی اس کو حل کیا جا سکتا ہے۔ مظاہرہ کی سیاست کا انحصار ہمیشہ خارج پر ہوا کرتا ہے۔ پھر کوئی خارج رخی سیاست کیوں کر کسی قوم کے مسئلہ کو حل کر سکتی ہے جب کہ اس کے مسائل داخل رخی اسباب کے تحت پیدا ہوتے ہوں ۔
درخت اپنی ابتدائی صورت میں بیج کا نام ہے۔ جیسا بیج ویسا درخت۔ اسی طرح کسی قوم کا خارجی مقام ہمیشہ اس کے داخلی استحکام کی نسبت سے متعین ہوتا ہے۔ جیسی تیاری ویسی قوم۔ یہ قانون اتنا حتمی اور یقینی ہے کہ اس میں کبھی کوئی استثنا ممکن نہیں۔ وہ اہل ایمان کے لیے بھی اتنا ہی قطعی ہے جتنا غیر اہل ایمان کے لیے۔ وہ ایک قوم کے لیے بھی اسی طرح درست ہے جس طرح کسی دوسری قوم کے لیے ۔
یہاں ۱۰ نکات کی صورت میں ملی تعمیر کا ایک پروگرام درج کیا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues