Al-Risala · September 1992 · page 35

دس نکاتی پروگرام

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۵

دس نکاتی پروگرام

ا۔ مسلمانوں کے اندر ایمانی شعور اور دینی جذبہ پیدا کرنا۔ ان کو اس قابل بنانا کہ وہ اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو سمجھیں اور ان کو ذمہ دارانہ طور پر ادا کریں۔

۲۔ مسلمانوں میں اخلاقی بیداری پیدا کرنا۔ ان کے اندر سچائی، امانت داری، انصاف اور شرافت کی صفات ایھار ناتا کہ وہ لوگوں کے درمیان بہتر انسان بن کر رہ سکیں۔

۳۔ مسلمانوں میں باہمی اتحاد کا جذبہ ابھارنا۔ ان کے اندر یہ مزاج پیدا کرنا کہ وہ اختلاف رکھنے کے باوجود لوگوں کے ساتھ متحد ہو کر رہ سکیں۔

۴۔ جھگڑوں کو طے کرنے کے لیے کمیٹیاں بنانا مسلمانوں کو آمادہ کرنا کہ جب بھی کوئی نزاع کی صورت پیدا ہو تو اس کو اپنی کمیٹی کے سامنے لے آئیں اور کمیٹی جو بات طے کرے اس پر وہ راضی ہو جائیں۔ ۵۔ فضول خرچی کو روکنا۔ رسموں اور تیوہاروں اور تقریبات میں جو غیر ضروری اخراجات کیے جاتے ہیں ان کو روکنا اور ہر معاملہ میں سادہ طریقہ کو رواج دینا۔

۶۔ مساجد و مدارس کو بہتر بنانا۔ یہ کوشش کرنا کہ وہ ہر اعتبار سے نمونہ کے ادارے بن جائیں اور مسلمانوں کے لیے ہر جگہ حقیقی دینی مرکز کے طور پر کام کرنے لگیں۔

۷۔ مسلمانوں کو تعلیم میں آگے بڑھانا۔ مقامی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے یہ کوشش کرنا کہ ہر مسلمان ضرور پڑھے۔ پوری قوم صد فی صد تعلیم یافتہ بن جائے۔

۸۔ مسلمانوں کی معاشی حالت کو سدھارنا۔ ان کو ہنر سکھانا۔ ان کو تجارت اور صنعت میں آگے بڑھانے کی تدبیریں اختیار کرنا۔ معاشی مسائل کو درست کرنے کے لیے لوگوں میں یہ ذہن بنانا کہ وہ مطالبہ اور احتجاج کے طریقہ کو چھوڑیں اور تعمیر خویش کے طریقہ کو اختیار کریں۔ ۹۔ وقف کی جائدادوں کے بہتر استعمال کی کوشش کرنا۔ ان کو منظم کرنا اور ان کے اوپر تعلیمی اور رفاہی ادارے بنانا ان کو مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی ترقی کے لیے استعمال کرنا۔ ۱۰۔ ملکی سیاست کے طریقہ کو چھوڑ کر مقامی سیاست کے طریقہ کو اختیار کرنا۔ وہ معاملات جن کا تعلق سیاست سے ہوتا ہے، مثلاً قومی جھگڑے، الیکشن میں ووٹ دینے کا مسئلہ، اس قسم کے تمام امور مقامی دائرہ میں رکھ کر حل کرنا۔ ان کو ملکی اور عمومی اشو بنانے سے کامل پر ہیز کرنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues

Printed page