ہندوستانی مسلمان
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۶
ہندوستانی مسلمان
پونہ کے تعلیم یافتہ مسلموں اور غیر مسلمانوں کی طرف سے مجھے دعوت دی گئی کہ میں ۶ نومبر ۱۹۹۱ کو ان کے ایک مشترکہ اجتماع سے خطاب کروں۔ تقریر کا موضوع جو ان کی طرف سے دیا گیا وہ تھا: مسلمان آزادی کے بعد کے ہندوستان میں (Muslims in post-independent India) مجھے خاص طور پر دو پہلوؤں سے مسلمانوں کی حالت کا جائزہ لینا تھا۔ معاشی اور مذہبی۔ اپنی عادت کے مطابق، میں نے خالص واقعاتی انداز میں اس موضوع کی تحقیق شروع کر دی۔ مطالعہ اور تحقیق کے بعد مجھ پر ایک نئی حقیقت کا انکشاف ہوا۔ وہ یہ کہ عام خیال کے برعکس، ہندوستان میں آزادی (۱۹۴۷) کے بعد مسلمانوں کی حالت پہلے سے کافی بہتر ہوئی ہے۔ میں نےجس مسلمان کا بھی جائزہ لیا اور جس مسلم بستی کے بارہ میں بھی تحقیق کی، تقریباً بلا اختلاف ہر ایک کو پایا کہ اس کی موجودہ حالت اس کی سابقہ حالت سے واضح طور پر بہتر ہے۔
یہ صحیح ہے کہ مسلمانوں کے کچھ مسائل ہیں۔ انھیں کچھ مشکلات درپیش ہیں۔ مگر کسی گر وہ کی حالت کو جانچنے کے لئے یہ کوئی صحیح معیار نہیں کہ وہ مشکلات و مسائل سے خالی ہو۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں ایسا ہونا ممکن ہی نہیں۔ اس دنیا کے لئے خدا کا قانون یہ ہے کہ یہاں ہمیشہ عُسر اور یُسْر دونوں موجود رہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو زندگی کی جد و جہد ہی سرے سے ختم ہو جائے گی ۔ اور جس سماج سے زندگی کی جد و جہد ختم ہو جائے وہاں زندہ انسانوں کا باغ نہیں اگتا، بلکہ مردہ انسانوں کا قبرستان وجود میں آتا ہے۔
ایسی حالت میں مسلمانوں کے معاملہ کو کسی خود ساختہ معیار سے جانچا نہیں جا سکتا۔ ان کے معیار کو لازمی طور پر ممکن معیار سے جانچنا ہو گا نہ کہ خیالی معیار سے۔ میں نے اپنی تحقیق میں یہ نہیں کیا کہ مسلمانوں کے اخباروں اور رسائل میں اس موضوع پر جو مضامین چھپے ہیں یا چھپ رہے ہیں ان پر اعتماد کر لوں۔ بلکہ میں نے آزادانہ طور پر خود اپنی واقفیت کے تحت اس کے بارہ میں رائے قائم کرنے کی کوشش کی۔ میری تلاش مجھے اس کے بالکل برعکس نتیجہ تک لے گئی جو عام طور پر ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں ایک مسلمہ کے طور پر دہرائی جاتی رہی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues