Al-Risala · September 1992 · page 37

ہندوستانی مسلمان

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۷

میں نے سب سے پہلے مسٹر اور مولوی طبقہ میں ان افراد کو دیکھا جو موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے نمائندہ سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر افراد کو میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر جانتا ہوں۔ میں نے پایا کہ ان میں سے ایک ایک شخص ۱۹۴۷ سے پہلے کے مقابلہ میں آج زیادہ بہتر حالت میں ہے۔ خواہ کوئی باریش قائد ہو یا بے ریش قائد، دونوں بلا استثناءپہلے سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔ پھر میں نے اپنے وسیع خاندان کو اور اپنے رشتہ داروں کو دیکھا۔ دوبارہ میں نے پایا کہ یہ تمام لوگ پہلے سے بہت بہتر حالت کے مالک ہیں۔ اس کے بعد میں نے ان شہروں اور بستیوں کے مسلمانوں پر غور کیا جہاں میں کم یا زیادہ مدت تک رہا ہوں یا جہاں میں جاتا رہتا ہوں۔ ان کے بارہ میں بھی تقریباً بلا استثنا ءمیرا مشاہدہ یہ تھا کہ وہ قبل از آزادی کے دور کے مقابلہ میں بعد از آزادی کے دور میں زیادہ بہتر حالت میں نظر آتے ہیں۔

کئی ہفتے تک میں اس موضوع سے تعلق رکھنے والے حقائق کا جائزہ لیتا رہا۔ آخر کار میرے ذہن نے فیصلہ کر دیا کہ ۱۹۴۷ء کے بعد کے دور میں مسلمانوں نے واضح طور پر اس ملک میں ترقی کی ہے۔ آج وہ پہلے سے کہیں زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔

اس تحقیق کے دوران میں ایک مسلمان سے ملاقات کے لئے گیا۔ وہ ایک گاؤں میں ایک کسان کے گھر پیدا ہوئے ۔ اس کے بعد انھوں نے تعلیم حاصل کی اور گزینڈ افسر ہو گئے۔ چند سال پہلے اکثر ان سے میری ملاقات ہوتی تھی۔ ہر ملاقات میں وہ یہ شکایت کرتے تھے کہ یہاں بہت زیادہ تعصب ہے۔ یہاں مسلمانوں کے لئے ترقی کے مواقع نہیں۔ مجھ کو دیکھئے، میں کئی سال سے اس محکمہ میں افسر ہوں۔ مگر میری مزید ترقی رکی ہوئی ہے۔ ہندو لابی مجھے آگے بڑھنے نہیں دیتی۔

تین سال کے وقفہ کے بعد میں پتہ کے مطابق، ان کے مکان پر ان سے ملنے کے لئے گیا ۔ پہلے وہ ایک فلیٹ میں رہتے تھے۔ اب میں نے دیکھا کہ وہ ایک بہت بڑے بنگلہ میں ہیں، پہریدار اور ملازم لگے ہوئے ہیں۔ بنگلہ کے چاروں طرف تقریباً ۱۰ایکڑ زمین ہے جس میں ہرے بھرے درخت بنگلہ کی شان کو بڑھارہے ہیں۔ وہاں انھوں نے کئی قسم کی فصل بھی اگارکھی ہے۔ معلوم ہوا کہ پچھلے دو سال سے وہ ترقی کر کے ایک بڑے عہدہ پر پہنچ چکے ہیں اور عہدہ کی نسبت سے یہ بنگلہ انھیں قیام کے لئے دیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues

Printed page