Al-Risala · September 1992 · page 38

سروسوں کا مسئلہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۸

میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک موصوف کے پاس رہا۔ اس پوری مدت میں وہ پر فخر طور پر صرف اپنے بنگلہ ، اپنے عہدہ اور اپنے ساز و سامان کا تذکرہ کرتے رہے۔ چند سال پہلے ہر ملاقات میں وہ اکثریتی فرقہ کے تعصب کا ذکر کیا کرتے تھے۔ موجودہ ملاقات میں وہ صرف اپنی بڑائی کا چرچا کرتے رہے۔

اس تجربہ کے بعد میری سمجھ میں آیا کہ وہ اصل کمی کیا ہے جو لوگوں کو ملک کی حقیقی صورت حال سے بے خبر کئے ہوئے ہے۔ وہ در اصل اعتراف حقیقت کا فقدان ہے۔ ایک شخص کو کوئی برائی پہنچے تو وہ حقیقت حیات کے سبب سے پہنچتی ہے۔ مگر اس کو وہ ہندو تعصب کے خانہ میں ڈال کر شکایت کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اور اگر ایک شخص کو کوئی بہتری ملے تو وہ اللہ کا انعام ہوتا ہے جو شکر کا طالب ہوتا ہے۔ مگر وہ اس کو ذاتی کارنامہ سمجھ کر فخر و ناز میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس طرح آدمی دونوں صورت کو اس کے حقیقی زاویہ سے دیکھنے سے محروم رہتا ہے۔ وہ نہ ملے ہوئے کا خوب چرچا کرتا ہے، مگر ملے ہوئے سے دوسروں کو آگاہ نہیں کرتا۔

سروسوں کا مسئلہ

ہندوستانی مسلمانوں کی زبانوں کو ہٹانے کے لئے عام طور پر جو چیز پیش کی جاتی ہے وہ سرکاری ملازمتوں کا معاملہ ہے۔ دہلی سے مسلمانوں کا ایک انگریزی ماہنامہ نکلتا ہے۔ وہ اپنے تقریباً ہر شمارہ میں ایسے اعداد و شمار چھاپتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان کس طرح سرکاری ملازمتوں میں اپنے عددی تناسب سے کم حصہ پائے ہوئے ہیں۔ دوسرے مسلم اخبارات و رسائل بھی عام طور پر اسی پہلو کو اپنے دعوے کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں۔ ان کا مشترک طور پر یہ کہنا ہے کہ مسلمان اس ملک کی سرکاری ملازمتوں میں دو فیصد سے زیادہ نہیں، جب کہ آبادی کی نسبت سے ان کی تعداد اس سے زیادہ ہونی چاہئے۔

مگر اعداد و شمار کی یہ منطق درست نہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مسلمان کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم میں بہت پیچھے ہیں۔ جب کہ انھیں اداروں کی ڈگریاں سروسوں کے لئے فیصلہ کی اصل بنیاد ہوتی ہیں۔ پھر جو گروہ سروسوں کے لئے مطلوبہ لیاقت میں دوسروں سے پیچھے ہو وہ ان سروسوں میں دوسروں کے برابر کس طرح حصہ پا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues

Printed page