Al-Risala · September 1992 · page 39

سروسوں کا مسئلہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۹

مردم شماری کے مطابق، مسلمان اس ملک کی آبادی کا تقریباً بارہ فیصد حصہ ہیں۔ اس تعداد میں تقریباً نصف کے برابر عورتیں شامل ہیں۔ اپنی سماجی روایات کے مطابق، مسلمان اس کو پسند نہیں کرتے کہ ان کے گھروں کی خواتین سرکاری دفتروں میں جا کر کام کریں، اس طرح خود مسلمانوں کے اپنے نظریہ کے مطابق، ان کی آبادی کا نصف حصہ سرکاری ملازمتوں کی فہرست سے حذف قرار پا جاتا ہے۔ اب بقیہ چھ فیصد میں اگر تین فیصد کو تعلیم کی کمی کی بنا ہر حذف کر دیا جائے تو اس کے بعد دو فیصد کا موجودہ تناسب بہت زیادہ غلط نظر نہیں آئے گا۔

اس سے قطع نظر، جہاں تک مادی خوش حالی کا تعلق ہے، سرکاری ملازمت کے شعبہ کو اس کے لیے معیار (کریائٹیریا) کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ اس کی کم از کم دو تحسین و جہیں ہیں۔ ایک یہ کہ سرکاری ملازمت کا تعلق حکومت سے ہوتا ہے اور حکومت پر قابض افراد ہمیشہ ملازمتوں کی تقسیم میں اپنے سیاسی مفاد کا لحاظ کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ حکام اگر مخلص ہوں، تب بھی مختلف ملکی اور بین اقوامی مصالح کی بنا پر انھیں سرکاری ملازمتوں کے سلسلہ میں ایسی پالیسی اختیار کرنی پڑتی ہے جس میں فیصلہ کی بنیاد آبادی میں مختلف فرقوں کا عددی تناسب نہیں ہوتا بلکہ وسیع تر مقاصد کی رعایت ہوتی ہے۔ اس بنا پر یہ صورت حال پر سماج اور ہر حکومتی نظام میں ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان کے سندھی مسلمانوں کو یہ شکایت ہے کہ مرکزی حکومت کی سروسوں میں پنجابی مسلمان اپنے عددی تناسب سے بہت زیادہ حصہ پر قابض ہیں اور سندھی مسلمانوں کو ان کے عددی تناسب سے بہت کم حصہ ملا ہے۔ عراق میں بیشتر اعلیٰ سرکاری ملازمتیں صدر صدام حسین کے قبیلہ کے افراد کو حاصل ہیں۔ ایران میں اعلیٰ سرکاری مناصب زیادہ تر شیعہ فرقہ کے افراد کو دئے جاتے ہیں۔ سنی فرقہ کے افراد اس سے بڑی حد تک محروم ہیں۔ لیبیا میں بیشتر حکومتی عہدے قذافی کی پارٹی کے لوگوں کے پاس ہیں۔ دوسرے لوگوں کو حکومتی عہدوں میں بہت کم حصہ ملا ہے۔ یہی حالت بلا استثناء تمام مسلم ملکوں میں کسی ایک یا دوسرے اعتبار سے پائی جاتی ہے۔ انڈیا میں بھی یہ فرق مختلف سطحوں پر موجود ہے۔ مگر یہ فرق صرف ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نہیں ہے بلکہ ہندوؤں اور ہندوؤں کے درمیان بھی ہے۔ مثال کے طور پر اعلیٰ سرکاری ملازمتوں میں برہمن فرقہ کا تناسب دوسرے ہندو فرقوں سے زیادہ ہے۔ انگریزی تعلیم یافتہ طبقہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues

Printed page