Al-Risala · September 1992 · page 40

مادی کامیابی

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۰

ہندی تعلیم یافتہ طبقہ کے مقابلہ میں زیادہ سرکاری عہدوں پر قبضہ کئے ہوئے ہے۔ یہی فرق مسلمانوں کی نسبت سے بھی بعض اسباب کی بنا پر پایا جاتا ہے۔ یہ عمومی طور پر ہر ایک کا مسئلہ ہے نہ کہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ۔

دوسرے یہ کہ سرکاری ملازمتوں کا تعلق ملکی انتظام (administrative) سے زیادہ اور معاش سے بہت کم ہے۔ سرکاری ملازمت کا حصہ معاشی تقسیم کے نظام میں چند فیصد سے زیادہ نہیں۔ حصول معاش کا میدان ایک بے حد وسیع میدان ہے۔ کسی گروہ کو اگر سرکاری ملازمتوں میں کم حصہ ملے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاشی تقسیم میں بھی اس کا حصہ کم ہوگا۔ سرکاری ملازمت کے باہر بہت سے شعبے پھر بھی اس کے لئے کھلے رہتے ہیں اور عین ممکن ہے ان دوسرے شعبوں میں عمل کر کے وہ اس سے بہت زیادہ پالے جتنا اس کو سرکاری ملازمت میں شرکت کے ذریعہ حاصل ہوتا۔

اس اصول کے حق میں بہت سی تاریخی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ اس کی ایک قریبی مثال آزادی سے پہلے ریاست حیدر آباد کا معاملہ ہے۔ آزادی سے پہلے ریاست حیدر آباد میں سرکاری ملازمتیں زیادہ مسلمانوں کو دی جاتی تھیں۔ ہندوؤں کا حصہ سرکاری ملازمت کے شعبہ میں بہت کم تھا۔ اس کے باوجود ریاست حیدر آباد کے ہندو معاش کے شعبوں میں ریاست کے مسلمانوں سے بدرجہا زیادہ بہتر تھے۔ کیوں کہ وہاں کے ہندو ریاست کی بیشتر تجارتوں پر قابض ہوگئے تھے۔ انھوں نے تجارت کے ذریعہ اس سے زیادہ معاشی فائدہ حاصل کر لیا جتنا انھوں نے سرکاری ملازمت کے شعبہ میں کھویا تھا۔

مذکورہ اسباب کی بنا پر میرا یہ کہنا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی معاشی حالت کو جانچنے کے لئے ہمیں ان کی واقعی معاشی حالت کو دیکھنا چاہئے نہ کہ سروسوں میں ان کے عددی تناسب کو۔ سرکاری سروسوں میں تناسب کو اس معاملہ میں نمائندگی کا درجہ حاصل نہیں۔

مادی کامیابی

میں اتر پردیش کا رہنے والا ہوں۔ ہمارے خاندان کی ایک شادی کی تقریب ۱۹۸۷ میں بمبئی میں ہوئی۔ اس تقریب میں خاندان کے پچاس سے زیادہ آدمی شریک ہوئے۔ یہ سب کے سب بنارس سے ہوائی جہاز کے ذریعہ سفر کر کے بمبئی پہنچے تھے۔ میں بھی انھیں میں سے ایک تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues

Printed page