Al-Risala · September 1992 · page 41

مادی کامیابی

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۱

ہم لوگ بمبئی کے ایک ہوٹل میں ٹھہرائے گئے:

اس قیام کے دوران ایک بار میرے ایک عزیز میرے ہوٹل کے کمرہ میں آئے۔ ان کے ہاتھ میں بمبئی کے ایک صاحب خالد لطیف بابا (۱۹۸۱ - ۱۸۹۹) کی ۲۶۰ صفحہ کی ایک کتاب تھی۔ اس کتاب کا نام منفعل آوازیں (Passive Voices) ہے اور وہ پہلی بار ۱۹۷۵ میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب۔ آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کی حالت کے بارے میں ہے۔ کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ مصنف کے نزدیک ہندوستانی مسلمان سراسر مظلومی کی حالت میں ہیں۔ انھوں نے کتاب کے نام کی توجیہہ کرتے ہوئے کتاب کے دیباچہ میں یہ الفاظ لکھے ہیں: It would be difficult to sum up the status and conditions of Muslims in India better in two words than 'Passive Voices.' میرے مذکورہ عزیز نے کتاب کے مندرجات سے اتفاق کرتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں کی مظلومیت بیان کرنا شروع کیا۔ میں نے کہا کہ میری رائے آپ کی رائے کے بالکل برعکس ہے۔ میرے نزدیک ہندوستان کے مسلمان آزادی کے بعد پہلے سے بہت بہتر ہوگئے ہیں۔ موجودہ مسلمانوں کا کیس مظلومیت کا کیس نہیں ہے بلکہ ترقی کا کیس ہے۔

میرے عزیز تعجب کے ساتھ میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے کہا کہ آپ کو تعجب اس لئے ہو رہا ہے کہ آپ مسلمانوں کی حالت کو اخباروں میں پڑھتے ہیں۔ خود مسلمانوں کو دیکھ کر مسلمانوں کی حالت کے بارے میں رائے قائم نہیں کرتے۔ اور ہمارے اخبارات سب کے سب زبردست صحافت (yellow journalism) کے اصول پر چلائے جا رہے ہیں۔ وہ پوری صورت حال کو جیسا ہے ویسا بیان نہیں کرتے۔ بلکہ صرف بعض سنسنی خیز پہلو کو لے کر ان کو نمایاں کرتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ خود اپنے آپ کو دیکھئے۔ آج آپ کی جو معاشی اور سماجی حالت ہے وہ اس سے بہت بہتر ہے جو ۱۹۴۷ کے انقلاب کے وقت آپ کی معاشی اور سماجی حالت تھی۔ آج آپ کوٹھی اور کار کے مالک ہیں، حالاں کہ پہلے آپ کے پاس بائیسکل کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ ۱۹۸۷ میں ہمارے خاندان کے پچاس افراد ہوائی جہاز سے سفر کر کے بمبئی میں تقریب نکاح میں شرکت کے لئے آئے ہیں۔ حالاں کہ میں اور آپ دونوں جانتے ہیں کہ ہمارا خاندان ۱۹۴۷ میں اس پوزیشن میں نہ تھا کہ وہ اتنے اعلیٰ معیار پر شادی کی تقریب کر سکے۔ ۱۹۴۷ سے

‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues

Printed page