Al-Risala · September 1992 · page 44

مذہبی حالت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۴

ایک سو دروازے بند کرے تو وہاں ترقی کے مزید ایک ہزار دروازے کھلے ہوئے ہوں گے۔ جن سے وہ قوم اپنا راستہ پالے گی اور ترقی کی طرف اپنا سفر شروع کر دے گی۔ کہیں ایک چھوٹا چشمہ ہو تو اس کے بہاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ مگر پانی جب سیلاب کی صورت اختیار کرلے تو اس کے بعد اس کے طوفان کو روکنا کسی کے لئے ممکن نہیں رہتا۔

مذہبی حالت

یہ عام معاشی حالت کی بات تھی ۔ اب مذہبی اعتبار سے دیکھئے۔ ستمبر ۱۹۹۱ میں ایک ہفتہ کے لئے میں لاہور میں تھا۔ وہاں ہر روز صبح کو پہلی آواز جو میرے کان میں آتی تھی وہ مسجد کی اذان کی آواز تھی جو لاؤڈاسپیکر پر بلند ہو کر پوری فضا میں پھیل جاتی تھی۔ ٹھیک یہی صورت حال انڈیا میں بھی ہے۔ دہلی میں میں نظام الدین کالونی میں رہتا ہوں۔ یہاں ہر روز صبح کے سناٹے کو جو چیز توڑتی ہے وہ دوبارہ اذان کی آواز ہے جو نظام الدین کی مسجدوں سے لاؤڈاسپیکر پر بلند ہوتی ہے اور کئی کلو میٹر تک کی فضا اس سے گونج اٹھتی ہے۔ یہی ملک کے تمام شہروں اور قصبوں کا حال ہے۔

لاہور میں بادشاہی مسجد کے اونچے مینار تھے تو بھوپال کی تاج المسجدیں کے مینار اس سے بھی زیادہ اونچے ہیں۔ اس کے علاوہ انڈیا میں تین لاکھ سے زیادہ مساجد ہیں، اور ان میں سے بہت سی مسجدیں وہ ہیں جو ۱۹۴۷ء کے بعد کے دور میں بنی ہیں، اور مزید توسیع و ترقی تو تقریباً ہر مسجد کی ہوئی ہے۔ اسلام آباد میں اگر جامعہ اسلامیہ ہے تو دہلی میں حکیم عبدالحمید صاحب کا قائم کردہ عظیم اسلامی ادارہ جامعہ ہمدرد ہے جو کسی بھی مسلم ملک کے اس قسم کے ادارہ سے کم نہیں۔ انڈیا میں مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ اسی طرح ترقی کر رہے ہیں جس طرح پاکستان میں کوئی اسلامی تعلیمی ادارہ ترقی کرسکتا ہے۔

آج لاکھوں کی تعداد میں سارے ملک میں اسلامی مدرسے پھیلے ہوئے ہیں۔ پرانے مدرسے مثلاً ندوہ اور دیو بند ۱۹۴۷ء سے پہلے معمولی مدرسے کی طرح تھے۔ آج وہ اپنی وسعت کے اعتبار سے یونیورسٹی کی مانند نظر آتے ہیں۔ آپ کے پڑوس مالیگاؤں میں ایک نہایت بڑا مدرسہ جامعہ محمدیہ کے نام سے قائم ہوا ہے جو رقبہ اور عمارت کے اعتبار سے قدیم مدارس سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ اس طرح سیکڑوں کی تعداد میں بہت بڑے بڑے نئے مدرسے سارے ملک میں قائم کئے گئے

‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues

Printed page