Al-Risala · September 1992 · page 45

مذہبی حالت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۵

ہیں ۔ رام پور میں جامعۃ الصالحات کے نام سے مسلم لڑکیوں کا مدرسہ قائم ہوا ہے۔ اس کے متعلق کہا جاتا۔ ہے کہ پوری مسلم دنیا میں وہ مسلم لڑکیوں کا سب سے بڑا مدرسہ ہے۔ اس طرح مختلف قسم کے اسلامی ادارے ہزاروں کی تعداد میں یہاں قائم ہوئے ہیں اور آزادی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ تبلیغی جماعت مسلمانوں کی ایک مذہبی جماعت ہے۔ اس کا پھیلاؤ ۱۹۴۷ سے پہلے جتنا تھا۔ اس کے مقابلہ میں آج وہ سیکڑوں گنا زیادہ بڑھ چکی ہے۔ دوسری مسلم جماعتوں میں بھی اسی طرح اپنے سرمایہ (asset) اور اپنے پیروؤں کے اعتبار سے بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ انڈیا میں آج ہر دن مسلمانوں کی بڑی بڑی کانفرنسیں اسلام کے مختلف موضوعات پر ہو رہی ہیں۔ جب کہ پہلے اس قسم کی کانفرنسوں کا انعقاد بہت کم ہوتا تھا۔ اسلامی کتا بیں اور اسلامی جرائد آج پہلے سے بھی زیادہ شائع ہو رہے ہیں۔ وغیرہ صحافت و قیادت ۱۹۴۷ کے بعد انڈیا میں جو بری چیز ظہور میں آئی ہے وہ حقیقہ مسلمانوں کی مظلومی نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی فرضی مظلومی کو بیان کرنے والی صحافت اور قیادت ہے۔ اس ملک میں مسلمانوں کے لئے اگر کوئی خطرہ ہے تو وہ اسی نام نہاد صحافت و قیادت کا وجود ہے، اس کے علاوہ یہاں مسلمانوں کے لئے اور کوئی حقیقی خطرہ نہیں۔

آج مسلمانوں کی صحافت اور قیادت جن افراد کے ہاتھ میں ہے وہ بدقسمتی سے سطحی قسم کے لوگ ہیں۔ انھوں نے اپنی صحافت اور قیادت کو کامیاب بنانے کا یہ سستا نسخہ اختیار کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے اندر خطرہ کی نفسیات (fear psychosis) پیدا کر کے ان کا استحصال کریں ۔ چنانچہ وہ موجودہ ہندوستانی سماج سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر کچھ برے واقعات نکالتے ہیں اور ان کو مبالغہ آمیز انداز میں پیش کرکے مسلمانوں کو غلط طور پر یہ تاثر دیتے ہیں کہ تم ہندوستان میں ظلم و زیادتی کا شکار ہو رہے ہو۔

اس کی ایک مثال بمبئی کا فروری ۱۹۸۹ کا فساد ہے۔ بمبئی کے کچھ لیڈروں نے مقامی مسلمانوں کو اکسایا ۔ چنانچہ انھوں نے برطانی شہری سلمان رشدی کی کتاب (The Satanic Verses) کے خلاف بمبئی میں ایک بڑا جلوس نکالا۔ جلوس کے نتیجہ میں فضا خراب ہوئی ۔ یہاں تک کہ پولیس نے گولی

‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues

Printed page