قومی ترقی میں حصہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۶
چلائی۔ کچھ مسلمان ناحق طور پر ہلاک ہو گئے۔ مسلمانوں کو مالی نقصان بھی پہنچا۔ مسلم اخباروں میں پولیس کے مظالم کی داستان ہفتوں اور مہینوں تک چھپتی رہی۔
یہ المیہ صرف ہماری صحافت اور قیادت کی استحصال پسندی کی وجہ سے پیش آیا۔ جیسا کہ معلوم ہے۔ راجیو گاندھی کی قیادت میں انڈیا پہلا ملک تھا جس نے اکتوبر ۱۹۸۸ میں سلمان رشدی کی مذکورہ کتاب پر پابندی لگا دی۔ حتی کہ پاکستان سے بھی پہلے اس نے اس کتاب کی اشاعت و تقسیم کو انڈیا میں قانونی طور پر روک دیا۔
اب سوال یہ ہے کہ اس کے بعد انڈیا میں اس مسئلہ پر احتجاجی جلوس کا کیا مطلب ہے۔ اس کے بعد تو انڈیا میں شکر کا جلسہ ہونا چاہئے۔ مسلمانوں کو خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ وہ ایک ایسے ملک میں ہیں جو ایک اسلام دشمن کتاب پر مسلم ملکوں سے بھی پہلے پابندی لگاتا ہے۔ نہ کہ اس پر احتجاجی جلوس نکالا جائے اور غیر ضروری طور پر اپنے لئے ایسے مسائل پیدا کئے جائیں جن کا با اعتبار واقعہ کوئی وجود نہیں۔
قومی ترقی میں حصہ
اوپر کی تفصیلات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آزادی ہند سے پہلے کے دور کے مقابلہ میں آزادی ہند کے بعد کے دور میں مسلمان ترقی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تاہم اس موضوع کا ایک اور پہلو ہے۔ اور وہ یہ کہ مجموعی قومی ترقی (total national growth) میں ان کا حصہ کتنا ہے۔ یہاں میں یہ اعتراف کروں گا کہ اس دوسرے اعتبار سے مسلمان یقینی طور پر پیچھے ہیں۔ مثلاً صحافت اور تعلیم کے اداروں میں ان کا حصہ دوسرے فرقوں کے اعتبار سے بہت کم ہے۔ صنعت اور تجارت کے میدان میں وہ ہندو اور جینی اور پارسی کے مقابلہ میں ابھی تک پیچھے ہیں۔
مگر اس معاملہ میں ہمیں حقیقت پسندانہ رائے قائم کرنا چاہئے نہ کہ کوئی جذباتی رائے۔ اصل یہ ہے کہ زمانی اعتبار سے خوش حال ہونے کے لئے تو زمانی عوامل ہی کافی تھے۔ چنانچہ زمانی اسباب کے تحت مسلمانوں کو موجودہ دور میں خوش حالی کا ایک حصہ مل گیا۔ مگر دوسری ہمسایہ قوموں کے مقابلہ میں اپنا مناسب حصہ پانے کے لئے قومی اہلیت کا ثبوت دینا تھا۔ یہاں رہنماؤں کی غلط رہنمائی اس میں مانع بن گئی کہ مسلمان ملک کی قومی ترقی میں اپنا وہ حصہ پا سکیں جو اپنی عددی طاقت کی نسبت سے انہیں ملنا
‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues