Al-Risala · September 1992 · page 47

تعلیم کا میدان

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۷

چاہیے تھا۔

مسلمانوں کی قیادت نے خاص طور پر پہلوؤں سے مسلمانوں کو نہایت شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایک یہ کہ انھوں نے اپنی نااہلی کی بنا پر مسلمانوں کو جدید تعلیم میں پیچھے کر دیا۔ جب کہ جدید تعلیم موجودہ زمانہ میں ہر قسم کی ترقیوں کی واحد لازمی شرط بن چکی ہے۔

مسلم قیادت کی دوسری شدید تر نااہلی یہ ہے کہ وہ اپنی غلط پالیسی کی بنا پر مسلمانوں کو فسادات کی مصیبت میں الجھائے ہوئے ہیں۔ آزادی کے بعد ہندوستان میں چھوٹے بڑے تقریبا چالیس ہزار فساد ہو چکے ہیں۔ اور ان سب کی اصل ذمہ داری بلاشبہ نااہل مسلم قیادت پر ہے۔ ان فسادات کی بنا پر ہی یہ المیہ پیش آیا کہ مسلمان قومی ترقی میں اپنا قرار واقعی حصہ پانے سے محروم رہے۔ اور جو کچھ پایا تھا اس کا بھی ایک حصہ وہ بار بار کھوتے رہے۔

تعلیم کا میدان

19 ویں صدی کے وسط میں یہ واقعہ ہوا کہ برطانوی حکومت نے انگریزی تعلیم کو باقاعدہ طور پر ملک میں رائج کیا اور فارسی کے بجائے انگریزی کو ملک کی سرکاری زبان کی حیثیت دے دی۔ اس وقت مسلم قیادت جن لوگوں کے ہاتھ میں تھی وہ انگریزوں سے سخت نفرت کرتے تھے۔ اس نفرت کو وہ یہاں تک لے گئے کہ انھوں نے انگریز اور انگریزی میں فرق نہیں کیا۔ وہ بیک وقت انگریزی قوم اور انگریزی زبان اور علوم دونوں کے دشمن بن گئے۔

مسلم قیادت کے اس مزاج کا اثر مسلم عوام پر پڑا۔ مسلمان عام طور پر انگریزی زبان اور انگریزی میں پڑھائے جانے والے علوم سے متنفر ہو گئے۔ حتی کہ سرسید (۱۸۹۸۔ ۱۸۱۷) نے جب انگریزی تعلیم پر زور دیا تو ان کو انگریزوں کا ایجنٹ بتا کر ان کی سخت مخالفت کی گئی۔ ان کو مسلم عوام سے کاٹ دیا گیا۔ اس بنا پر مسلمان دوسرے فرقوں کے مقابلہ میں انگریزی تعلیم میں تقریبا ایک سو سال پیچھے ہو گئے۔ اس کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ہمارے یہاں عربی زبان میں عالمی سطح کے علماء موجود ہیں مگر انگریزی زبان میں ہمارے پاس ملکی سطح پر بھی کوئی قابل ذکر مسلم رائٹر موجود نہیں۔ تاہم ۱۹۴۷ کے انقلاب کے بعد حالات کے زیر اثر مسلمانوں کے اندر نیا ذہن پیدا ہو ہے۔ اب مسلمان تیزی سے جدید تعلیم کے میدان میں داخل ہو رہے ہیں۔ چنانچہ آج ہمارے یہاں

‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues

Printed page