حفاظتی ڈھال
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۳
الٹراوائلٹ شعاعوں کے مضر اثرات سے بچائے ہوئے ہے۔
قرآن کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کے اوپر بالائی فضا میں ایک محفوظ چھت قائم کی۔ بالائی فضا (atmosphere) کے بارہ میں موجودہ زمانہ میں جو سائنسی تحقیقات ہوئی ہیں وہ قرآن کے اس بیان کے حق میں ایک علمی تائید کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ تحقیقات بتاتی ہیں کہ فضا کے اوپر اوزون گیس کی ایک موٹی تہہہ ہے جو کرہ ارض کے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔ یہ فضائی چھتری انسان کے لیے ایک حفاظتی ڈھال کا کام کر رہی ہے۔ اس حفاظتی ڈھال کے بغیر انسان کے لیے یہ ممکن ہی نہ ہوتا کہ وہ زمین کے اوپر آباد ہو اور یہاں تمدن کی تعمیر کرے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بالائی فضا میں 40 کلومیٹر اور 50 کلومیٹر کی بلندی کے درمیان موجود گیسوں میں قدرتی طور پر ایک رد عمل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں بننے والے نئے قسم کے مالیکیول سے ایک گیس تیار ہوتی ہے جس کو اوزون کہا جاتا ہے۔ یہ اوزون زمین کے چاروں طرف فضا میں پھیلی ہوئی ہے۔ وہ الٹراوائلٹ شعاعوں کو جذب کر لیتی ہے اور اس طرح وہ زمین کے اوپر زندگی کے لیے ایک اہم حفاظتی ڈھال کا کام کرتی ہے :
In the region between about 20 and 50 kilometers the monatomic oxygen reacts with 02 to form ozone (03). The resulting worldwide layer of ozone, although its relative concentration is less than 1/10,000, is sufficient to absorb ultraviolet radiation and thereby serve as a vital protective shield for life on earth. (2/322-23)
موجودہ زمانہ میں صنعتی تمدن نے انسان کے لیے جو نئے مسائل پیدا کیے ہیں، ان میں سے ایک خطرناک مسئلہ یہ ہے کہ جدید صنعتوں کی پیدا کردہ بعض گیسوں کی وجہ سے اوزون کی تہ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اب یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ فضا کی اوزون میں رخنہ پڑنے سے کم از کم جزئی طور پر، الٹرا وائلٹ شعاعوں کو زمین تک پہنچنے کا راستہ مل جائے اور پھر انسان کے لیے طرح طرح کے ناقابل حل مسائل پیدا ہو جائیں۔
موجودہ زمانہ میں اس پر باقاعدہ ریسرچ کی جارہی ہے اور اس سلسلہ میں کافی لٹریچر شائع کیا گیا ہے۔ ٹائم میگزین (۱۰ فروری ۱۹۹۲) نے اس مسئلہ کو اپنی کور اسٹوری بنایا ہے۔ اس کا عنوان Al Risalah,
‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues