Vanishing ozone: The danger comes closer.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۴
ہے ــــــ ختم ہوتی ہوئی اوزون، خطرہ قریب آرہا ہے :
Vanishing ozone: The danger comes closer.
زندگی کے لیے یہ ضروری گیس جس کی بربادی کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے، وہ آکسیجن کی ایک قسم ہے جس سے مالیکیول میں تین ایٹم ہوتے ہیں جب کہ عام آکسیجن کے مالیکیول میں دو ایٹم ہوتے ہیں۔ ڈھانچہ میں اس سادہ تبدیلی نے اوزون میں یہ صلاحیت پیدا کر دی ہے کہ وہ الٹراوائلٹ شعاعوں کو جذب کر سکے : The vital gas being destroyed is a form of oxygen in which the molecules have three atoms instead of the normal two. That simple structure enables ozone to absorb ultraviolet radiation. (p.41)
سائنسی نقطہ نظر سے مالیکول کے ایٹمی ڈھانچہ میں یہ تبدیلی ہی وہ سبب ہے جس کی بنا پر اوزون اس صفت کی حامل گیس بن گئی ہے کہ وہ سورج سے آنے والی مضر گیس کو اپنے اندر جذب کرلے اور اس کو زمین کی سطح تک پہنچنے نہ دے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ بالائی فضا میں اوزون کی یہ گیسی چادر ہم کو مسلسل طور پر الٹرا وائلٹ شعاعوں کے مہلک اثرات سے بچائے ہوئے ہے۔
مگر کوئی عقلی یا سائنسی دلیل یہ ثابت کرنے کے لیے موجود نہیں کہ ایٹم کی تعداد میں تبدیلی بذاتِ خود اپنے اندر اس قسم کی انوکھی اور مفید صلاحیت رکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اس آسمانی آگ سے بچانے والا خدا ہے۔ ظاہری طور پر مذکورہ تبدیلی اس لیے پیدا کی گئی تاکہ آدمی اس کو دیکھ کر ٹھٹکے۔ وہ اس ظاہری واقعہ کو دیکھ کر اندرونی حقیقت تک پہنچ سکے۔ ایک طرف فطرت کے نظام میں اوزون گیس کا ہونا، دوسری طرف جدید صنعتی نظام کے تحت اوزون گیس کی تباہی، یہ دونوں واقعات بے حد سبق آموز ہیں، اور ان میں سوچنے والوں کے لیے عظیم نشانی پائی جاتی ہے۔
بالائی فضا میں اوزون گیس کی موٹی تہ کا پایا جانا ظاہر کرتا ہے کہ جس ہستی نے دنیا کا نظام بنایا، اس کو پیشگی طور پر یہ معلوم تھا کہ زمین پر بسنے والے انسانوں کی کیا ضرورتیں ہوں گی ۔ اس نے تجربہ سے پہلے یہ جانا کہ سورج کی شعاعوں میں افادیت کے ساتھ نقصان کے پہلو بھی موجود ہیں۔ اس نے افادیت کے پہلو کو مستحکم کیا اور نقصان والے پہلو سے بچاؤ کا انتظام کر دیا تاکہ انسان جب زمین پر بسے تو وہ سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے محفوظ رہے ، سورج کی صرف
‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues