Al-Risala · October 1992 · page 25

Vanishing ozone: The danger comes closer.

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۵

مفید شعاعیں انسانوں تک پہنچ سکیں۔

اب دوسرے رخ کو دیکھئے جو بیسویں صدی کے نصف آخر میں ہمارے سامنے آیا ہے۔ انسان نے ساٹھ سال پہلے وہ چیز دریافت کی جس کو ایر کنڈیشنگ کہا جاتا ہے۔ اس دریافت نے انسان کو غیر معمولی طور پر راحت کا سامان دیا۔ ایر کنڈیشنڈ مکان اور دفاتر اور مختلف بلڈنگیں ماڈرن زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ جب یہ صنعت دریافت ہوئی تو وہ خیر ہی خیر نظر آتی تھی، مگر جدید تحقیقات نے بتایا کہ اس خیر میں شر بھی چھپا ہوا ہے۔

موجودہ ایر کنڈیشنگ کا سسٹم سی ایف سی پر مبنی سسٹم (cfc-based system) ہے۔ سی ایف سی نکلنا لوجی آج انسان کے لیے زبردست خطرہ بن گئی ہے۔ سی ایف سے مراد کلور وفلورو کاربن (chlorofluorocarbons) ہے ۔ یہ ایک کیمیکل ہے جو ایر کنڈیشنگ کے سامانوں کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کیمیکل کو تیار کرنے کے لیے جو کارخانے بنائے گئے ہیں وہ اس کی تیاری کے دوران ایک ضمنی پیداوار (by-product) تیار کرتے ہیں جس کو سی آئی او یا کلورین مونو آکسائڈ (chlorine monoxide) کہا جاتا ہے۔ یہی سی آئی او کا مادہ ہے جو در اصل اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ حتی کہ اس نے بالائی فضا میں ایک بڑا سوراخ پیدا کر دیا ہے جس سے سورج کی مذکورہ مضر شعاعیں زمین پر آنا شروع ہو گئی ہیں۔

اب امریکہ وغیرہ میں بہت بڑے پیمانے پر ریسرچ ہو رہی ہے تا کہ کوئی ایسا متبادل مادہ دریافت کیا جائے جس کے ذریعہ مذکورہ مضر کیمیکل پیدا کیے بغیر ایر کنڈیشنگ کے سامان بنائے جاسکیں۔ اب یہاں دو نمونے ہیں۔ ایک فطرت (نیچر) کا۔ دوسرے انسانی صنعت کا۔ فطرت کا نمونہ بتاتا ہے کہ اس میں پیشگی طور پر یہ انتظام موجود تھا کہ سورج کی مضر شعاعیں زمین کی سطح تک نہ پہنچیں۔ تاکہ انسان محفوظ طور پر زمین پر آباد ہو سکے۔ دوسری طرف صنعتی دور کے صنعت کاروں کو پیشگی طور پر یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ان کی ایر کنڈیشنگ کی صنعت فطرت کے قیمتی توازن کو توڑ دے گی اور انسان کے لیے سخت ناموافق صورت حال پیدا ہو جائے گی۔

یہ صورت حال اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات کی تخلیق اور اس کی منصوبہ بندی کے پیچھے ایک بالاتر خدائی ذہن کی کار فرمائی ہے۔ اگر یہاں ایسے ذہن کی کارفرمائی نہ ہوتی تو فطرت کے نظام میں

‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues

Printed page