Al-Risala · November 1992 · page 24

سفر نامه - ۴۰

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۴

منافق حقیقتہ اس انسان کا نام ہے جو مصلحت پرست اور زمانہ ساز ہو۔ اس کی اس صفت کی بنا پر اس کے دنیوی معاملات درست رہتے ہیں۔ اس کی زندگی خوش حالی کی زندگی ہوتی ہے۔ اس کی زندگی غم سے خالی ہوتی ہے۔ اس کے ان حالات کا اثر اس کے جسم پر پڑتا ہے۔ اس کا جسم پرکشش جسم بن جاتا ہے۔ اسی طرح اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر وہ اس بحث میں نہیں پڑتا کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ اصول کیا ہے اور بے اصولی کیا ۔ تضاد والا کلام کیا ہے اور بے تضاد کلام کیا۔ اس کے بجائے وہ موقع کی رعایت کرکے بولتا ہے۔ اس بنا پر اس کا کلام ہر ایک کی پسند کا کلام بن جاتا ہے۔

منافقین کی یہ خصوصیت ہر دور میں ان کو عوام کا لیڈر بنائے رہی ہے۔ قرب قیامت میں پریس اور اسٹیج کا دور آجانے کی وجہ سے منافقین کے یہ مواقع اور زیادہ بڑھ جائیں گے۔ اپنی مذکورہ صفات کے اظہار کے لئے وہ زیادہ وسیع مواقع پالیں گے اور نتیجہ یہ زیادہ بڑے پیمانے پر اپنے لئے قیادت کا مقام حاصل کر لیں گے۔

ایک مصری عالم نے گفت گو کے دوران کہا کہ یورپی اور امریکی یہی موجودہ زمانہ کے صلیبی ہیں (الصليبيون الآن هم الاوربيون والامريكيون) انھوں نے شیخ محمد ابو زہرہ کا قول دہرایا، ان كل حرب تقع بين اقلیم اسلامی و دولة اوروبية هي حرب صليبية (ہر جنگ جو کسی مسلم ملک اور کسی مغربی ملک کے درمیان ہوتی ہے وہ صلیبی جنگ ہے) آج تقریباً پوری عرب دنیا کی سوچ یہی ہے۔ مگر میرے نزدیک یہ سوچ صحیح نہیں۔ یہی وہ خاص سوچ ہے جس نے مسلم دنیا کی نظر میں مغربی قوموں کو نفرت کا موضوع بنا دیا ہے۔ حالاں کہ امت مسلمہ کی داعیانہ حیثیت کا تقاضا ہے کہ مغربی قومیں اس کے لئے شفقت و ہمدردی کا موضوع بنیں۔ ایک مجلس میں چند عرب لوگ تھے۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ جو مشن چلا رہے ہیں، اس سے مجھے اتفاق ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ آپ کے بعد یہ مشن کس طرح جاری رہے گا۔ کیا آپ نے اپنے بعد کے لئے اپنے جیسا کوئی شخص تیار کیا ہے جو آپ کی جگہ لے سکے۔ اس پر رابطہ عالم اسلامی کے شیخ ادریس نے کہا: وحید الدین لا يكون الا وحيداً (وحید الدین صرف ایک ہی ہوتا ہے) یہ کسی ایک شخص کی بات نہیں بلکہ ہر آدمی کی بات ہے۔ ہر آدمی جو اس دنیا میں آتا ہے وہ ایک

‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues

Printed page