Al-Risala · November 1992 · page 25

سفر نامه - ۴۰

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۵

منفرد شخصیت لے کر آتا ہے۔ جس طرح ہر آدمی کے انگوٹھے کا نشان دوسروں سے الگ ہواتا ہے، اسی طرح ہر آدمی کی شخصیت بھی دوسروں سے الگ ہوتی ہے۔ کسی بھی آدمی کی تکرار اس دنیا میں ممکن نہیں۔ ۱۲ اکتوبر کی سہ پہر کو ہم اہرام وغیرہ دیکھنے کے لئے نکلے۔ ایک مقام پر پہنچے تو ایک اونچی بلڈنگ کے اوپر آخری منزل پر ایک سفید اور کالا جھنڈا لہرارہا تھا۔ معلوم ہو کہ اس عمارت کے اوپر کے حصہ میں اسرائیل کا سفارت خانہ واقع ہے۔ پہلے یہ سفارت خانہ نیچے کی منزل پر تھا۔ مگر اس حملے ہوئے۔ اس کے بعد اس کو اوپر کی آخری منزل پر قائم کر دیا گیا۔ تاہم قاہرہ میں وہ یہاں کے سماج سے بالکل کٹ کر رہتے ہیں۔ یہاں کوئی ان سے ملنا پسند نہیں کرتا۔

پہلا اسرائیلی سفیر جب اپنی مدت پوری کی کے قاہرہ سے اسرائیل واپس گیا تو اس کی بیوی نے اسرائیلی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قاہرہ میں ہم کسی جیل کے اندر تھے. اب اس سے نکل کر آزاد دنیا میں آئے ہیں۔

قاہرہ کی مذکورہ بلڈنگ کے اوپر اسرائیل کا جھنڈا لہراتے ہوئے دیکھ کر خیال آیا کہ جس ملک میں تھوڑی کے بعد اس کے اول حکمران نے اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سنڈھیكم في البحر )ہم تم کو سمندر میں پھینک دیں گے) عین اسی ملک میں اس حکمراں کے پہلے جانشین کے زمانہ میں خود اس کی اجازت سے یہ واقعہ پیش آیا کہ اسرائیل نے دارالسلطنت قاہرہ میں داخل ہو کر وہاں اپنا جھنڈا نصب کر دیا۔

حقیقتیں کبھی الفاظ سے نہیں بدلتیں بلکہ اس کے مطابق ضروری اسباب فراہم کرنے سے بدلتی ہیں۔ موجودہ زمانہ کے بیشترت مائن کا یہ حال ہے کہ انھوں نے پر جوش الفاظ بولنے کو حقیقی عمل کا بدل سمجھ لیا ہے۔ مگر اس قسم کی خوش فہمی صرف خوش فہم آدمی کے ذہن میں جگہ پاتی ہے وہ زمین پر کبھی قائم نہیں ہوتی۔

جامعۃ القاہرہ ، حدیقۃ الحيوانات اور دوسرے مقامات کو دیکھتے ہوئے ہمارا سفر طے ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ ہم جیزہ کے اہرام تک پہنچ گئے۔ یہاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر تین اہرام واقع ہیں۔ کھلے میدان میں پتھر کے بڑے بڑے ٹکڑوں سے بنے ہوئے اہرام اس طرح کھڑے ہوئے تھے جیسے مصر کی گزری ہوئی تاریخ اپنی تمام قدامت کے ساتھ اٹھ کر کھڑی ہو گئی ہواور خاموش زبان

‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues

Printed page