سفر نامه - ۴۰
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۶
میں اپنا تعارف کرا رہا ہو۔
ہماری گاڑی اہرام کی طرف آگے بڑھی تو ایک سپاہی نے اس کو روک لیا۔ وہ ہمارے ساتھی سے بات کر رہا تھا جو گاڑی چلا رہے تھے۔ میں حسب عادت پچھلی نشست پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کی نظر میرے اوپر پڑی تو اس کا رویہ بدل گیا۔ اس نے یہ کہہ کر گاڑی آگے کی طرف جانے کی اجازت دے دی کہ: من اجل الشيخ الكبير سمعنا لك۔ میں نے سوچا کہ اس دنیا میں اگر طاقت ور آدمی کی طاقت میں تاثیر ہے تو میرے جیسے ضعیف آدمی کا ضعف بھی اپنے اندر ایک طاقت رکھتا ہے۔ اور بعض اوقات ضعیف کی طاقت قوی کی طاقت سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔
تین اہرام دیکھنے کے بعد میں نے ابو الہول کو دیکھا جو اہرام سے الگ پتھر کو تراش کر بنایا گیا ہے۔ ایک سیاح عالمی سفر کر کے واپس آیا۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے ساری دنیا کا سفر کیا ہے۔ بتاؤ کہ سب سے عجیب چیز تم نے کیا دیکھی۔ اس نے کہا: ابو الہول کے اعضاء کا تناسب۔ ابو الہول نامی بت
‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues