Al-Risala · November 1992 · page 27

سفر نامه - ۴۰

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۷

بہت بڑا ہونے کے باوجود تناسب الاعضاء ہے۔ تاہم مجھ کو وہ اتنا زیادہ مناسب نظر نہیں آیا جتنا مذکورہ سیاح نے بتایا ہے۔

اہرام دیکھنے کے دوران ایک موقع پر تمام سواریاں روک دی گئیں۔ اتنے میں ایک درجن کا روں کا قافلہ خاص آداب کے ساتھ آیا۔ معلوم ہو اکہ وزیر اعظم مالٹا اہرام دیکھنے کے لئے آئے ہیں۔ یہی دھوم پچھلے دن قاہرہ کے ہوائی اڈہ پر نظر آئی تھی جب کہ مالٹا کے وزیر اعظم قا ہرہ ائیر پورٹ پر اترے تھے۔ مالٹا میں ہم نے دیکھا تھا کہ وزیراعظم وہاں عام انسانوں کی طرح رہتا ہے۔ ممگر قاہرہ آتے ہی اس کے ساتھ شاہانہ آداب کا منظر دکھائی دینے لگا۔ کتنا فرق ہے ایک ملک اور دوسرے ملک میں۔ ایک انگریزی اخبار میں ایک دلچسپ مضمون پڑھا۔ اس کے ساتھ ایک تصویر بھی شامل تھی۔ اس تصویر میں مصر کے تین اہرام نظر آرہے تھے۔ دوسری طرف اونٹ اپنی روایتی صورت میں موجود تھے۔ اسی کے ساتھ اہرام کے سامنے کھلے ہوئے میدان میں ایک چاند گاڑی تھی۔ اس کے اوپر ایک آدمی خلائی لباس (اسپیس سوٹ) پہنے ہوئے دکھائی دے رہا تھا۔ تصویر کے اوپر لکھا ہوا تھا؛ کیا خلائی تحقیق کرنے والے قدیم مصر میں اترے تھے۔

یہ ایک فرضی قیاس آرائی تھی۔ گر آرٹسٹ کے قلم نے کاغذ کے اوپر اس کو ایک واقعہ کی صورت میں ڈھال دیا۔ اگر آپ صرف کاغذی نقشہ کو دیکھیں تو وہ آپ کو واقعہ معلوم ہوگا۔ اور ر اگر آپ اپنے ذہن کو استعمال کریں تو آپ پر کھلے گا کہ وہ صرف ایک لطیفہ ہے۔ اس دنیا میں اگر کوئی شخص صرف ظاہر کی بنیاد پر رائے قائم کرے تو وہ کبھی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہاں حقیقت کو صرف وہ شخص پا تا ہے جو ظاہر سے گزر کر باطن تک پہنچنے کی کوشش کرے۔

استاذ محمد کمال نے نہر سوئز جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ صبح کو قاہرہ سے بذریعہ کار سوئز جانا اور پھر شام تک وہاں سے واپس آنا تھا۔ مجھے خود بھی سوئز دیکھنے کا اشتیاق تھا۔ مگر بعض دوسری مصروفیتوں کی وجہ سے میں سوئز کا سفر نہ کرسکا۔

سوئز کی تاریخ کے ساتھ طرح طرح کے خوشگوار اور ناخوش گوار واقعات شامل ہیں۔ سوئز وہ مصنوعی نہر ہے جو میڈیٹیرینین اور ریڈسی کو ملاتی ہے اور اس طرح یورپ اور مشرقی دنیا کے درمیان بحری سفر کو مختصر کر دیتی ہے۔ اس نہر کا تخیل کافی قدیم ہے۔ 1856 میں سوئز کینال کمپنی بنی ۔ 1859

‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues

Printed page