Al-Risala · November 1992 · page 28

سفر نامه - ۴۰

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۸

میں کھدائی کا کام شروع کیا جو آخری طور پر ۱۸۶۹ میں مکمل ہوا۔ نومبر ۱۹۶۹ میں وہ جہاز رانی کے لئے کھول گئی۔

مختلف حالات سے گزرتے ہوئے یہ کمپنی فرانس اور برطانیہ کی ملکیت میں آگئی۔ ابتدائی ٹھیکہ کے مطابق ، سوئز پر کمپنی کا کنٹرول ۹۹ سال تک رہنا تھا جو ۱۹۶۸ میں ختم ہوتا تھا۔ آخری زمانہ میں سوئز کے کل منافع میں مصر کا حصہ سات فیصد تھا۔ کمپنی کے کارکنوں میں زیادہ تعداد مصریوں کی ہوتی تھی ۔ اس کے علاوہ کمپنی کی ذمہ داری یہ بھی تھی کہ وہ علاقہ میں اسپتال، اسکول وغیرہ قائم کرے۔ حوالہ کے لئے: انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا ، جلد ۱۷، صفحہ ۷۸، مصر میں جمال عبدالناصر کی حکومت آئی تو انہوں نے اسوان ڈیم کا منصوبہ بنایا ۔ امریکہ نے اس کے لئے ۲۷ کروڑ ڈالر ($ 270,000,000) کی اقتصادی مدد منظور کی۔ برطانیہ نے بھی مدد کا وعدہ کیا۔ مگر جمال عبدالناصر نے اسی کے ساتھ اندر اندر کمیونسٹ بلاک سے تعلقات قائم کر لئے۔ انہوں نے چیکو سلاویکیا سےہتھیار حاصل کرنے کا خفیہ معاملہ کیا۔ اس پر امریکہ بگڑ گیا۔ اس نے ڈیم کی امداد روک دی۔ اس کے بعد ۲۹ اکتوبر ۱۹۵۶ کو جمال عبدالناصر نے تالیوں کی گونج کے درمیان اعلان کیا کہ آج ہم نے نہر سوئز کو نیشنلائز کر لیا اور اب ہم اس کی آمدنی سے اسوان ڈیم کی تعمیر کریں گے ۔ (844/12) جمال عبدالناصر کے اس اقدام نے مغربی قوموں کو ان کا دشمن بنا دیا۔ اس کے فورا بعد فرانس اور برطانیہ نے اسرائیل کے ذریعہ مصر پر حملہ کرادیا۔ خود بھی پوری طرح اس کی مدد کی۔ اس حملہ میں مصر کی فوجی طاقت کچل کر رہ گئی۔ اسرائیل نے مزید اطراف کے علاقوں پر قبضہ کرکے اپنے رقبہ کو پانچ گنا بڑھا لیا۔

جمال عبدالناصر اگر ۱۲ سال انتظار کرتے تو سوئزکمپنی معاہدہ کے مطابق اپنے آپ ختم ہو جاتی۔ مگر ان کے عاجلانہ اقدام نے مصر کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ جو چیز ۱۹۶۸ میں اپنے آپ مل جاتی، اس کو ۱۹۵۶ میں پیشگی طور پر حاصل کرنے کی کوشش مصر کے حق میں الٹی ثابت ہوئی۔ ایک ہندوستانی مصنف کی عربی کتاب قاہرہ سے چھپی ہے۔ اس کا نام ہے: المسلمون في الهند ، بين خدعة الديمقراطية واكذوبة العلمانية ۔ میں نے پڑھنے کے لئے لیا تو اس کا پہلا جملہ یہ تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے انڈیا کے ہندوؤں نے طے کر لیا ہے کہ وہ آئین کے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues

Printed page