سفر نامه - ۴۰
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۹
قصہ کوانڈیا کے مسلمانوں کے ساتھ دہرائیں (یبدو ان الہنودوس فی الہند قرروا ان يقوموا بتکرير قصة الاندلس)
پوری کتاب انشائی انداز میں ہے۔ حقائق سے صرف نظر کر کے اس میں الفاظ کا جوش وخروش دکھایا گیا ہے۔ آخر میں ہندوستانی مسلمانوں کے لئے افغانی جنگجوؤں کو بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے : و ان شعبنا الہندى المسلم الذى يزيد عدده عن عدد المجاهدين الافغان سبعة أضعاف يستطيع ان يستفيد من الدرس الافغانی و يستوعبه (صفحہ ۹۷)
یہ سب باتیں اتنی بے معنی ہیں کہ مجھے ان لوگوں کی عقل پر حیرت ہوتی ہے جو اس کو لکھیں اور ان لوگوں کی عقل پر بھی حیرت ہوتی ہے جو اس کو چھاپ کے پھیلائیں۔
ایک مصری مصنف (عبد المجید صبح ) کی کتاب دیکھی ۔ ۴۰ صفحہ کی اس کتاب کا نام حقائق الاسلام بين الجهاد والجھود تھا۔ اس کتاب کے ٹائٹل پر دو تلواریں بنی ہوئی تھیں۔ ایک تلوار مسلم ملت کو سیاسی حیثیت سے قتل کر رہی تھی اور دوسری تلوار اس کو دینی حیثیت سے۔ پوری کتاب جدلی انداز میں ہے۔ مگر اس کے تعارف میں ٹائٹل کے آخری صفحہ پر بتايا گيا ہے کہ وہ منہج علمی پر لکھی گئی ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مصنفین اسلام منہج علمی کو جانتے بھی نہیں۔ کجا کہ وہ منہج علمی پر کتاب لکھ سکیں ۔
عربوں کی موجودہ نفسیات کی بنا پر جہاد کی باتیں ان کو بہت پسند آتی ہیں۔ کتابوں کے جارحانہ ٹائٹل اور ٹائٹل کے اوپر عسکری آرٹ ان کے درمیان بہت پسند کیا جاتا ہے۔ قاہرہ میں ہم کتابوں کی ایک دکان میں داخل ہوئے۔ معمولی مشاہدہ میں دس سے زیادہ ایسی کتابیں نظر آئیں جن کے ٹائٹل پیج پر تلوار کی تصویر بنی ہوئی تھی ۔ مثلاً ــ مقام الصحابة ، حقائق الاسلام، خفقات قلب، شہداء الصحابة ، الدولة والسلطة في الاسلام، السبحَة والدمار، الفارس المصلوب عبد الله بن الزبير، شهيد المحراب عمر بن الخطاب ، الاعلام الخلیجی، صور و بطولات، وغیرہ۔
الشیخ محمد متولی الشعراوی مصر کے بڑے عالموں میں سے ہیں۔ وہ لوگوں میں بہت مقبول تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues