سفر نامه - ۴۰
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۰
انور السادات کر زمانہ حکومت میں سبعینات میں انھوں نے وزیر اوقاف کا عہدہ قبول کر لیا۔ اس کے بعد عوام کے درمیان ان کی مقبولیت بہت کم ہوگئی۔ وہ ”سرکاری مولوی“ سمجھے جانے لگے۔ شیخ شعراوی نے اس فرق کو محسوس کیا اور ۱۹۷۹ میں وزارت سے الگ ہو گئے۔ اس کے بعد انھوں نے کبھی حکومت میں کوئی عہدہ قبول نہیں کیا۔ آج وہ مصر کے مقبول ترین عالم کی حیثیت رکھتے ہیں۔
یہ صورت حال موجودہ زمانہ میں اسلام کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ کچھ عاقبت اندیش قائدین نے یہ روایت قائم کی ہے کہ اسلام کا سب سے بڑا کام حکومت کا مخالف بن کر کھڑا ہونا ہے۔ اسلام کے نام پر جاری کی جانے والی اس غیر اسلامی سیاست نے اسلام کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا کسی دشمن نے بھی اسلام کو نقصان نہیں پہنچایا۔ موجودہ زمانہ میں تمام اعلیٰ ذرائع حکومت کے قبضہ میں ہوتے ہیں۔ ان ذرائع کو استعمال کرکے اسلام کی عظیم خدمت کی جاسکتی ہے۔ مگر غلط طور پر یہ صورت حال بن گئی ہے کہ جو شخص حکومت کے قریب ہو وہ مسلم عوام سے دور ہو جاتا ہے اور جو شخص مسلم عوام سے قریب ہونا چاہے اس کو حکومت سے دور ہونا پڑتا ہے۔
رجاءء بن حیوہ نے سلطان وقت سے قریب ہو کر عمر بن عبدالعزیز جیسے انسان کے لئے خلافت کا راستہ کھولا ۔ مگر آج کوئی عالم رجا بن حیوہ بننے کی جرات نہیں کر سکتا۔ سعودی عرب میں شیخ ابن باز ، مصر میں شیخ طنطاوی اور شام میں شیخ کفتارو حکومت سے مل کے دین کا کام کرنا چاہتے ہیں۔ مگر وہ عوام میں غیر مقبول ہیں۔ دوسری طرف جو علماء حکومت سے لفظی یا عملی ٹکر لے رہے ہیں، انھوں نے کوئی بھی حقیقی فائدہ نہیں پہنچایا ، مگر عوام میں انھیں کو مقبولیت حاصل ہے۔ قاہرہ کے زمانہ قیام میں محمد الخطیب کی کتاب بالاسلام مصر دولة عظمیٰ دیکھی۔ پوری کتاب خطیبانہ انداز میں ہے۔ ۳۳۳ صفحہ کی اس کتاب کو پڑھنے کے بعد قاری کے اندر فکری ہیجان کے سوا اور کچھ پیدا نہیں ہو سکتا۔ جبکہ صحیح کتاب وہ ہے جو آدمی کے اندر سنجیدہ تعمیری ذہن پیدا کرے ۔
کتاب کا خلاصہ موجودہ مسلمانوں کو ابھار کر ان کے اندر وہ چیز پیدا کرنا ہے جس کو مصنف نے الشخصية الجهادية للفرد والامة علی السواء (صفحہ ۱۳۳) کہا ہے ۔ کتاب میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ مسلمان عظیم تاریخ کے وارث ہیں۔ وہ امامت عالم اور قیادت بشری کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues