First class travel companions
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۷
کر دے۔
دہلی ایئر پورٹ سے ہم ”پری پیڈ“ ٹیکسی کے ذریعہ روانہ ہوئے۔ اس کا انتظام پولیس کی طرف سے کیا گیا ہے۔ میں نے ڈرائیور سے پوچھا کہ اس سفر کے لئے ہم نے آپ کے آفس کو ڈیڑھ سوروپے ادا کئے ہیں۔ اس میں کتنا آپ کا ہے اور کتنا دفتر کا۔ ڈرائیور نے کہا کہ دفتر فی ٹیکسی دوروپیہ لیتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو زیادہ رقم نہیں۔ ڈرائیور نے کہا کہ ایئر پورٹ کے لئے یہاں چار سو ٹیکسیاں ہیں اور ہر ایک ٹیکسی سے دو دو روپیہ لیتے ہیں۔ اس طرح ان کا حصہ ہم سے زیادہ ہو جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ چار سو ٹیکسیاں ہیں تو روزانہ ان کو ۸۰۰ روپیہ ملیں گے۔ ڈرائیور نے کہا کہ نہیں۔ ٹیکسی ایک دن میں اوسطاً تین چکر ایئر پورٹ کا کرتی ہے۔ اس طرح ان کو ہر روز کم از کم ڈھائی ہزار روپے مل جاتے ہیں۔ یہ انفرادی عمل اور اجتماعی عمل کے فرق کی ایک مثال ہے۔ فرد کا حصہ ایک بار کے سفر پر ڈیڑھ سور و پیہ ہے۔ اور اجتماعی نظم کا حصہ صرف دوروپیر۔ گر مجموعی نتیجہ کے اعتبار سے فرد کے حصہ میں صرف ساڑھے چار سو روپیہ آیا، اور اجتماعی نظم کو ڈھائی ہزار روپیہ مل گیا۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ اجتماعیت میں برکت ہے۔
۱۵ اکتوبر 1991 کی صبح کو میں اس وقت دہلی واپس پہنچا جب کہ یہاں کی مسجدوں سے فجر کی اذان کی آواز بلند ہو رہی تھی اور پوری فضا اس سے ہم آہنگ ہو کر بزبان خاموش یہ کہہ رہی تھی کہ رات ختم ہو گئی۔ بہت جلد افق سے نئے دن کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues