S. Arabia cuts off oil supply to Jordan
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۲
بہت پسند آئی۔ انھوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے آپ کو دوسروں کی نظر میں اپنی اعتبار بیت قائم کرنا چاہئے۔ اس کے بعد ایسا ہوگا کہ آپ کی طرف سے جو بات آئے گی، وہ آسانی کے ساتھ قبول کرلی جائے گی:
ایک عربی مقالہ کے بعد اس پر تبصرہ کرتے ہوئے میں نے جو کچھ کہا، اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ اس مقالہ کا موضوع تھا : دنیا کی حالیہ تبدیلیاں اور عالم اسلام پر اس کا اثر (المتغيرات في العالم وتأثيرها علی العالم الاسلامی)
میں نے کہا کہ آج مسلمانوں کا ذہن غیر اہم باتوں میں الجھا ہوا ہے، اور جو اصل بات ہے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ میں نے کہا کہ جدید دنیا کے مطالعہ کے بعد میں نے یہ سمجھا ہے کہ آج پوری دنیا دو قسم کے تضادات میں مبتلا ہے۔ ایک علمی تضاد اور دوسرا دینی تضاد۔ اس تضاد سے آج انسان کو نکالنا، یہی موجودہ زمانہ میں دعوتی عمل کا اصل میدان ہے۔ میں نے کہا کہ جدید دنیا کا علمی تضاد وہ ہے جو مشہور سائنسداں شروڈنگر (Schrodinger) کے اس قول میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس نے بہت سے سائنس دانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ فطرت کے بارہ میں سب سے زیادہ ناقابل فہم بات یہ ہے کہ وہ قابل فہم ہے : جدید علماء ایک ناقابل حل مشکل میں مبتلا ہیں۔ وہ کائنات کو خدا کے بغیر سمجھنا چاہتے ہیں۔ مگر خدا کائنات میں اتنا زیادہ شامل ہے کہ خدا کو الگ کرکے کائنات کسی طرح سمجھ میں نہیں آتی۔ اس تضاد کا واحد حل یہ ہے کہ آج کے اہل علم کو خدا کے عقیدہ پر لایا جائے۔ خدا کے عقیدہ کو مانتے ہی وہ اپنے اس لایحل تضاد سے نجات حاصل کر لیں گے۔
دوسرا تضاد وہ ہے جس کو مذہبی تضاد کہا جاسکتا ہے۔ انڈیا کے ایک ہندو مفکر نے کہا ہے کہ ہندوؤں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کا مذہب اتنا زیادہ غیر عقلی ہے کہ وہ ان کے لئے کھڑے ہونے کی مثبت
‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues