S. Arabia cuts off oil supply to Jordan
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۳
بنیاد نیں بن سکتا ۔ وہ صرف مسلم دشمنی کی منفی بنیاد پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ مگر منفی بنیاد کبھی کسی قوم کو ترقی کی طرف نہیں لے جاسکتی۔ یہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جو چیز پسندیدہ ہے وہ ممکن نہیں، اور جو ممکن ہے وہ پسندیدہ نہیں:
یہ صرف ہند وازم کی بات نہیں ۔ یہی اسلام کے سوا تمام مذاہب کی بات ہے۔ یہ تمام مذاہب محرف مذاہب ہیں۔ وہ تحریف کے نتیجہ میں غیر عقلی بن چکے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں موجودہ قومیں اس صورتحال سے دوچار ہیں کہ ان کا قومی مذہب قابل عمل نہیں ہے۔ اور اسلام قابل عمل ہے مگر قومی تعصب کی بنا پر وہ اس کو اختیار نہیں کرتے۔
یہ دو قسم کے تضاد ہیں جن میں آج کی تمام قومیں مبتلا ہیں۔ دنیا کو اس تضاد سے نکالنا، یہی آج دعوتی اعتبار سے کرنے کا سب سے بڑا کام ہے۔
۲۵ ستمبر کی شام کا وقت ہے۔ میں اپنے کمرہ کی پشت کی بالکنی پر کھڑا ہوں۔ سامنے حد منظر تک سمندر (میڈیٹیرینین) پھیلا ہوا ہے۔ سمندر میں کچھ تفریحی کشتیاں نظر آئیں جو اپنے مسافروں کے ساتھ سمندر میں تیز رفتاری کے ساتھ دوڑ رہی تھیں۔ فضا میں کچھ سمندری چڑیاں منڈلا رہی تھیں جو بار بار مچھلی پکڑنے کے لئے پانی میں گرتی تھیں۔ ساحل سے ملی ہوئی سڑک پر دوڑتی ہوئی کاروں کا نظر تھا جو اپنے مسافروں کو لئے ہوئے مسلسل چلی جا رہی تھیں۔
ان چیزوں کو دیکھ کر میری سمجھ میں آیا کہ ولقد کرمنابنی آدم وحملنا هم في البر والبحر کا مطلب کیا ہے اور اس میں انسان کے لئے جس ”تکریم کا ذکر ہے، اس سے کیا مراد ہے وہ یہ کہ انسان کے ساتھ ”حملنا کا معاملہ کیا گیا ہے، جب کہ حیوانات کے ساتھ ”حملنا“ کا معاملہ نہیں کیا گیا۔
پاؤں والے جانور اپنے پیروں پر چلتے ہیں۔ مچھلیاں اپنی طاقت سے تیرتی ہیں۔ چڑیاں اپنے بازوؤں کے ذریعہ اڑتی ہیں، مگر انسان سوار ہی پر بیٹھ کر اپنا راستہ طے کرتا ہے۔ خشکی میں اس کے لئے گاڑی ہے۔ سمندروں میں اس کے لئے کشتی ہے اور فضاؤں میں اس کے لئے ہوائی جہاز ہے۔ گویا
‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues