فکری قیادت
الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۱۷
اسلام تحریف سے پاک ہے وہ اپنی اصل الہامی صورت میں آج بھی موجود ہے۔ اس بنا پر وہی اس پوزیشن میں ہے کہ جدید انسان کو فکری رہنمائی دے سکے۔ اسلام انسان کو ایک طرف وہ سچا مذہب عطا کرتا ہے جو اس کی فطرت کے عین مطابق ہے اور اس کو خالص توحید کا وہ عقیدہ فراہم کرتا ہے جس سے وہ کائنات کی توجیہہ کرسکے۔ آج انسانیت کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اس کو اسلام سے متعارف کیا جائے جو واحد نظام ہے جو انسانیت کو فکری بحران سے نکال سکتا ہے۔
یہاں میں دو واقعہ نقل کروں گا جو علامتی طور پر بتاتا ہے کہ کس طرح اسلام انسانیت کو موجودہ فکری بحران سے نکال کر اس حالت تک پہنچانے والا ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : سن لو ، اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے ( ۱۳ : ۲۸ )
ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیائے انڈیا کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو تھے۔ انھوں نے ۱۹۰ میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ انھوں نے اپنے ذہنی سفر کا حال ایک کتاب میں بیان کیا ہے جس کا نام ہے: Why have I accepted Islam? ڈاکٹر چٹو پادھیائے لکھتے ہیں کہ جب میں بڑا ہوا تو مجھے اپنے آبائی مذہب سے بے اطمینانی ہوگئی۔ اس کے بعد میں نے مذاہب کا مطالعہ شروع کیا۔ مگر ہر مذہب مجھے غیر تاریخی نظر آیا۔ ان کی کتابیں اور ان کی شخصیات کوئی بھی تاریخ کے معیار پر پوری اترتی نظر نہیں آئیں۔ آخر میں انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا تو اسلام اور پیغمبر اسلام کی ایک ایک چیز انھیں مکمل طور پر تاریخ کی روشنی میں نظر آئی۔ انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے اپنی کتاب میں یہ جملہ لکھا ہے کہ اف ، اس پانے میں کیسی راحت ہے کہ آدمی آخر کار ایک سچے تاریخی پیغمبر کو پالے جس پر وہ یقین کر سکے : Oh! what a relief to find, after all, a truly historical Prophet to believe in. فرانس کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ڈاکٹر گارودی (Roger Garaudi) کو حقیقت کی تلاش ہوئی ۔ انھوں نے مختلف فلسفہ اور مذاہب کا مطالعہ کیا یہاں تک کہ وہ اسلام پر مطمئن ہوئے اور ۱۹۸۲ میں انھوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اسلام کیوں قبول کیا تو انھوں نے کہا میں نے اسلام اس لئے قبول کیا تاکہ میں اپنی زندگی کو با معنی بنا سکوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues