Al-Risala · February 1992 · page 18

فکری قیادت

الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۱۸

یہ دونوں واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ آج کے انسانوں کو سب سے زیادہ کس چیز کی ضرورت ہے۔ آج کے انسان کو سب سے زیادہ اس چیز کی ضرورت ہے جس کو ڈاکٹر ہر یڈلے نے نیو ریلیجن کہا تھا۔ اور جس کا متعین نام اسلام ہے۔ یہ سب سے بڑی چیز ہے جس کو موجودہ مسلمان عالم انسانیت کو دے سکتے ہیں۔

یہاں میں یہ اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا کو اسلام کا پیغام دینا سادہ طور پر محض اعلان کا معاملہ نہیں ہے یہ عظیم صبر کا معاملہ ہے۔ مسلمانوں کو موجودہ زمانہ کی مدعو اقوام سے طرح طرح کی ایذائیں پہنچ رہی ہیں۔ اس کے رد عمل میں ایسا ہوا ہے کہ مسلمان اپنی مدعو اقوام کے خلاف غصہ اور شکایت کی نفسیات سے بھر گئے ہیں۔ اس طرح کی نفسیات کے ساتھ دعوت کا کام نہیں کیا جا سکتا۔ دعوت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے مسلمانوں کو رد عمل کی نفسیات سے اوپر اٹھنا ہوگا۔ انہیں مدعو اقوام کی ڈالی ہوئی ایذاؤں کو یک طرفہ طور پر برداشت کرنا ہوگا۔ اس قربانی کے بعد ہی وہ موجودہ دنیا میں اسلام کے داعی بن سکتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں پیغمبروں کی زبان سے ان لفظوں میں بتائی گئی ہے کہ ہم ضرور تمہاری ایذاؤں پر صبر کریں گے (۱۲ : ۱۴)

آخر میں میں کہوں گا کہ جدید انسان کا فکری بحران میں مبتلا ہونا اور مسلمانوں کے پاس اجارہ داری کی حد تک اس فکری بحران کا حل موجود ہو نا مسلمانوں کو یہ موقع دے رہا ہے کہ وہ آج کی دنیا کے فکری قائد بن سکیں۔ مگر یہ عالمی قیادت انھیں صرف صبر کی زمین پر ہی مل سکتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا قرآن میں ان الفاظ میں اعلان کیا گیا:

ہم ان کو آفاق میں اور خود ان کے اندر اپنی نشانیاں دکھائیں گے ، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے (۴۱ / ۵۳)

نئی کتابیں الربانیہ حیات بشری کا ربانی طریقہ _ صفحات ۲۴۲ کاروانِ ملت _ صفحات ۲۳۰

‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues

Printed page