Al-Risala · February 1992 · page 19

شاہ کلید

الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۱۹

شاہ کلید

ایک عربی پرچہ میں ایک مضمون نظر سے گزرا۔ اس کا عنوان تھا : المفتاح العظیم (عظیم کنجی) ، اس میں بتایا گیا تھا کہ دعوتِ اسلام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ماضی میں اسلام نے دعوت کے ذریعہ عالمی فتح حاصل کی تھی ، آج بھی ہم دعوت کے ذریعہ دوبارہ اپنی شکست کو فتح میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

مسلمانوں کے اکثر لکھنے اور بولنے والے اسی طرح آجکل دعوت کی باتیں کر رہے ہیں۔ مگر عین اسی کے ساتھ یہ تمام لوگ مسلمانوں کے خلاف غیر مسلم اقوام کی سازشوں اور دشمنیوں کا بھی اعلان کرتے رہتے ہیں۔ ایک طرف وہ مسلمانوں سے کہہ رہے ہیں کہ تم لوگ داعی بنو۔ اسی کے ساتھ وہ مسلمانوں سے مزید شدت کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ دنیا کی قومیں تمہارے لئے ظالم بھیڑیا بن گئی ہیں، اس لئے ان سے لڑ کر ان کا خاتمہ کرو۔ یہ دونوں باتیں ایک ساتھ کہی جاتی ہیں ، مگر وہ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ایک اگر دعوت ہے تو دوسری عداوت۔ غور کیجئے کہ وہ لوگ کون ہیں جن کو ظالم اور سازشی بتایا جاتا ہے۔ یہ وہی غیر مسلم قومیں ہیں جن کے اوپر ہمیں دعوت کا کام کرنا ہے۔ وہ ہمارے لئے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ گویا مسلمان داعی ہیں اور ان کی پڑوسی غیر مسلم قومیں مدعو۔ اب اگر داعی کے دل میں یہ بٹھایا جائے کہ مدعو تمہارے لئے ظالم بھیڑیا ہے تو کیا وہ سچے داعیانہ جذبہ کے ساتھ اپنے مدعو کے اوپر دعوت کا عمل جاری کر سکتا ہے۔ کیا وہ انی لکم ناصح کے نفسیات کے ساتھ اس سے معاملہ کر سکتا ہے۔ دعوت سرتا سر محبت کا ایک عمل ہے۔ داعی کو آخر حد تک اپنے مدعو کی ہدایت کا حریص بننا پڑتا ہے ، اس کے بعد ہی دعوت کے عمل کا آغاز ہوتا ہے۔ مدعو اگر زیادتی کرے تب بھی داعی اس کی زیادتیوں کو بھلا کر یک طرفہ طور پر اس کو اپنی دلچسپی کا موضوع بناتا ہے۔ وہ اپنے دل کو مدعو کی شکایات سے اتنا زیادہ خالی کرتا ہے کہ اس کے دل سے مدعو کے حق میں دعائیں نکلنے لگیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues

Printed page