شاہ کلید
الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۲۰
لوگ دعوت کی باتیں کرتے ہیں مگر وہ اس کے آداب نہیں جانتے ۔ لوگ داعی کا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں، بغیر اس کے کہ وہ اس کے تقاضے کو پورا کریں۔ لوگ شہادت علی الناس کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں، بغیر اس کے کہ انھوں نے اس کی قیمت ادا کی ہو۔
یہ صرف ان ملکوں کا معاملہ نہیں جہاں مسلمان کمزور اقلیت ہیں۔ ٹھیک یہی نفسیات ان ملکوں کے مسلمانوں کی بھی جہاں انھیں اکثریت حاصل ہے، یا جہاں پوری کی پوری آبادی مسلمان ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اقلیتی علاقہ کے مسلمانوں کو مقامی غیرمسلم طاقت سے شکایت ہے۔ اور اکثریتی علاقہ کے مسلمانوں کو عالمی غیرمسلم طاقتوں سے۔ مثلاً یہودی، عیسائی، اشتراکی مستعمرین، مستشرقین وغیرہ۔ اسلام میں دعوت کی مصلحت ہر دوسری مصلحت پر مقدم ہے۔ دعوت کے مفاد کی خاطر ہر دوسری چیز کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے، خواہ وہ بذات خود کتنی ہی زیادہ سنگین اور کتنی زیادہ اہم کیوں نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس معاملہ میں اتنی واضح رہنمائی کرتی ہے کہ طالب حق کے لئے ادنیٰ شبہہ کی کوئی گنجائش نہیں۔
ہجرت سے کچھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف گئے ۔ وہاں کے لوگوں نے آپ کے ساتھ حد درجہ توہین وتذلیل کا سلوک کیا جس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ حتی کہ آپ نے خود حضرت عائشہ سے فرمایا کہ طائف کے دن سے زیادہ سخت دن میرے اوپر کوئی اور نہیں گزرا۔ روایات بتاتی ہیں کہ جب آپ غم اور تکلیف کے ساتھ طائف سے واپس ہوئے تو راستہ میں اللہ کے حکم سے ملک الجبال (پہاڑوں کا فرشتہ) آپ کے پاس آیا ۔ اس نے کہا کہ اللہ نے آپ کی قوم کی باتیں سنیں ۔ میں ملک الجبال ہوں ۔ اگر آپ کہیں تو میں ان دونوں پہاڑوں کے ذریعہ اس بستی کو کچل ڈالوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ ان کی اگلی نسلوں سے ایسا شخص پیدا کرے گا جو اللہ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائے ۔ أَرْجُو أن يخرج الله من أصلابهم مَن يعبد الله لا يشرك به شيئاً، السيرة النبوية لابن كثير، المجلد الثانی، صفحه ۱۵۳)، دعوت بلاشبہ مفتاح عظیم ہے، مگر اس مفتاح عظیم کو استعمال کرنے کے لئے قلب عظیم درکار ہے۔ اس کے لئے وہ کردار مطلوب ہے جس کو قرآن میں بلند اخلاق (خلق عظیم) کہا گیا ہے۔ قلب عظیم کے بغیر کوئی آدمی نہ تو وقت کے امکانات کو جان سکتا ہے اور نہ اس کے بغیر وہ اس قابل ہو سکتا ہے کہ وہ ان امکانات کو استعمال کر سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues