Al-Risala · February 1992 · page 22

نئے خون کی ضرورت

الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۲۲

نئے خون کی ضرورت

سید جمال الدین افغانی (۱۹۷ - ۱۸۳۸) مسلمانوں کی اصلاح سے مایوس تھے۔ امیر شکیب ارسلان نے اس بارہ میں ان کے جو خیالات نقل کئے ہیں، اس کا خلاصہ یہ ہے: قد فسدت اخلاق المسلمين الى انه لا اامل مسلمانوں کے اخلاق اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ امید بان يصحوا الا بان ينشا و اخلقاً جديداً نہیں کہ ان کی اصلاح ہو۔ الایہ کہ ان میں نئی نسل وحيلا مستأنفاً فحبذ الولم يبق منهم الاكل پیدا ہو۔ کیا ہی اچھا ہو کہ بارہ سال کی عمر کے سوا ان من هو دون الثانية عشرة من العمر ، کے سارے لوگ ختم ہو جائیں۔ پھر وہ نئی تربیت فعند ذالك يتلقون تربية جديدة تسيربهم قبول کریں گے جو انہیں سلامتی کے طریقہ تک پہنچائے۔ في طريق السلامة (حاضر عالم اسلامی ۱۹۳۳، صفحه ۲۹۰)

۲۳ دسمبر ۱۹۷۳ء کو دہلی (جمعیتہ بلڈنگ ) میں میری ملاقات مولا نا سید منت اللہ رحمانی (امیر شریعت بہار ) سے ہوئی۔ ان سے میں نے بعض مصلحین کے مذکورہ بالا تاثرات کا ذکر کیا۔ اس کے جواب میں انھوں نے ایک روایت بیان کی ۔ یہ روایت میں نے اسی وقت ایک کاغذ پر خود ان کے اپنے قلم سے لکھوائی تھی۔ ان کے ہاتھ کا لکھا ہوا یہ کاغذ ابھی تک میرے پاس محفوظ ہے۔ اس میں مولا نارحمانی نے لکھا تھا :

مولا نا ابو المحاسن محمد سجاد صاحب (۱۹۲۰ - ۱۸۸۳) نے مجھ سے کہا کہ ایک دفعہ مولا نا محمد علی مونگیری (۱۹۲۷) کی خدمت میں عرض کیا کہ خدا بہتر جاتا ہے کہ جہاں جانتا ہوں اخلاص کے ساتھ جاتا ہوں ، لیکن جب تک رہتا ہوں ، لوگ دین کی طرف مائل رہتے ہیں ، اور وہاں سے ہٹنے کے بعد لوگ بھی دین کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اخلاص کا تو اثر ہونا چاہئے۔ حضرت مونگیری نے جواب دیا کہ "اللہ تعالیٰ ہرا عصر اور زمانہ میں اپنی کسی نہ کسی صفت کے ساتھ جلوہ گر رہتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خیر القرون میں اپنی صفت " الہادی " کے ساتھ جلوہ گر تھا ، اور اس عہد میں اپنی صفت " المضل " کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ اس لئے نہ ہدایت دیر پا ہوتی ہے اور نہ اخلاص مؤثر ! جس کا نتیجہ یہ بھی ہے کہ جن لوگوں کا منصب ہدایت تھا ، وہ گمراہ ہورہے ہیں"۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues

Printed page