نئے خون کی ضرورت
الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۲۳
ڈاکٹر اقبال (۱۹۳۸ء - ۱۸۷۷ء) کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو صداقت اوپر عدالت اور شجاعت کا سبق پڑھائیں اور انہیں دوبارہ امامت دنیا کے لئے تیار کریں۔ انہوں نے مسلمانوں کو جگانے کے لئے اپنے اشعار کو رجز کے طور پر استعمال کیا۔ وہ اپنی ان کوششوں کے نتائج کے بارہ میں بہت پرامید تھے۔ چنانچہ انھوں نے کہا:
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی اقبال نے اپنی پوری زندگی اس مقصد کے لئے وقف کر دی۔ مگر ان کی "بانگ درا" اور "ضرب کلیم" کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کی استعداد کے بارہ میں وہ مایوس ہوگئے۔ انھوں نے آخری طور پر اپنا تجربہ ان الفاظ میں بیان کیا:
تیرے محیط میں کہیں گوہر زندگی نہیں ڈھونڈ چکیں امواج موج دیکھ چکا صدف صد ف یہی حال موجودہ زمانہ کے اکثر مصلحین کا ہوا ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے مسلمانوں کو اپنی کوششوں کا مرکز بنایا۔ مگر ساری کوشش صرف کرنے کے بعد انھیں یہ تلخ احساس ہوا کہ مسلمانوں میں کوئی گہری اصلاح قبول کرنے کا مادہ ہی نہیں ہے۔
موجودہ مسلمانوں کی استعداد کے بارہ میں مذکورہ بالا اصحاب کا تجربہ بجائے خود صحیح ہے۔ مگر اس کی توجیہہ کے بارہ میں ان کا بیان صحیح نہیں۔ یہ درست ہے کہ گنتی اور مقدار دونوں اعتبار سے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو اٹھانے کی بے حساب کوششیں کی گئیں مگر ان کا کوئی بھی قابل ذکر نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ مگر اس کی وجہ وہ نہیں جو اور نقل کئے ہوئے بیانات میں ملتی ہے۔
پانی اگر کسی گڑھے میں ٹھہر جائے تو کچھ دنوں کے بعد اس میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے۔ مگر جب پانی چشمہ یا دریا کی صورت میں رواں ہو، وہ ہمیشہ تازہ اور فرحت بخش بنا رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گڑھے کے پانی میں پرانے پانی کے ساتھ نیا پانی شامل ہو نا بند ہو جاتا ہے۔ جب کہ چشمہ یا دریا میں مسلسل پرانے پانی میں نیا پانی آکر شامل ہوتا رہتا ہے۔
اسی مثال سے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے معاملہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان ایک جامدنسلی گروہ بن کر ٹھہرے ہوئے پانی کی مانند ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں کثافت پیدا ہوگئی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ ان کے اندر نیا خون (New blood) شامل کیا جائے ۔ ان کے پرانے پانی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues