فخر، تواضع
الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۲۵
فخر، تواضع
میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی ۔ تعلیمی اور معاشی اعتبار سے وہ تقریباً صفر تھے۔ البتہ اس احساس کو وہ اپنا سب سے بڑا سرمایہ بنائے ہوئے تھے کہ میرے دادا نواب صاحب کے قریبی مصاحبوں میں سے تھے۔ وہ شاندار حویلی میں رہتے تھے اور انھیں نواب صاحب کی طرف سے ایک باعزت لقب حاصل تھا۔ وہ دیر تک پُر فخر انداز میں اپنے دادا صاحب کی بڑائی کا ذکر کرتے رہے۔ میں نے محسوس کیا کہ ان کی فخر پسندی اور ان کے خاندانی ناز نے انھیں برباد کر رکھا ہے۔ اس نفسیات کی بنا وہ نہ تعلیم حاصل کر سکے اور نہ کوئی دوسرا معاشی کام کرنے میں کامیاب ہوئے۔ میں نے ہمدردی کے تحت ان سے کہا کہ وہ فخر و ناز کو چھوڑیں اور تواضع اور حقیقت پسندی کی روش اختیار کریں۔ میں نے ان کے سامنے دلیلیں دیں۔ واقعات سنائے۔ مگر میں نے محسوس کیا کہ میری بات ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا گویا میں کسی ایسی اجنبی زبان میں بول رہا ہوں جس کو وہ جانتے ہی نہیں۔
یہی حال موجودہ زمانہ میں زیادہ بڑے پیمانہ پر مسلمانوں کا ہوا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان مذہب پر فخر پر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب تواضع کی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ دورِ اول کے مومنین کے لیے اسلام تواضع کا دین تھا۔ عظمتِ خداوندی کے شعوری احساس نے ان کے مزاج اور کردار میں تواضع کی کیفیت پیدا کر دی تھی۔ اس کے بعد ان پر اللہ تعالیٰ کا یہ قانون پورا ہوا کہ من تواضع رفعه الله ( جو شخص تواضع اختیار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو بلند کر دیتا ہے ) وہ لوگ اللہ کی مدد سے اوپر اٹھے اور رفعتوں اور بلندیوں کی شاندار تاریخ بنائی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان دور اول کے مسلمانوں کے وارث ہیں۔ مگر وہ ان کی تواضع کے وارث نہیں ہیں، ان کے پاس جو کچھ ہے وہ صرف یہ یاد ہے کہ ہمارے اسلاف ماضی میں فلاں اور فلاں بلندیوں تک پہونچے تھے۔ وہ تواضع اور نتائج تواضع دونوں سے محروم ہو کر صرف خوش کن الفاظ کے اوپر کھڑے ہوئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کے ایمانی احساس کو جگا کر ان کے اندر تواضع والا دین پیدا کیا جائے۔ تواضع کی روش آدمی کو اوپر اٹھاتی ہے، اور فخر و ناز کی روش اس کو پست کر کے پیچھے دھکیل دیتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues