مارکسزم کا خاتمہ
الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۲۶
مارکسزم کا خاتمہ
۲۶ دسمبر ۱۹۹۱ء کو تمام دنیا کے اخباروں کے پہلے صفحہ کی سرخی یہ تھی: میخائیل گورباچیف نے استعفا دے دیا (Mikhail Gorbachev resigns) یہ استعفا محض ایک واقعہ کا اعلان ہے۔ کیوں کہ اس تاریخ سے بہت پہلے سوویت یونین کا بھی خاتمہ ہو چکا تھا اور سوویت یونین کے آخری صدر کا بھی۔ راقم الحروف نے ۳۵ سال پہلے مارکسی اشتراکیت پر ایک کتاب لکھی تھی۔ میں نے اس کتاب کا نام تجویز کیا تھا: مارکسزم تاریخ جس کو رد کر چکی ہے۔ پھر سوویت یونین کے سابق صدر نیکیتا خروشچیف نے ۱۹۵۶ء میں اسٹالن کے دور کے مظالم کا جہنمی انکشاف کیا تو یہ گویا اشتراکی ایمپائر کے کھوکھلے پن کا داخلی اعتراف تھا۔ اس کے بعد ۱۹۸۹ء میں برلن وال کا ٹوٹنا اشتراکی ایمپائر کے ٹوٹنے کا عملی آغاز بن گیا۔ دسمبر ۱۹۹۱ میں الماتا کا نفرنس میں اس شکست کی تکمیل ہوگئی جب کہ اس کی بقیہ گیارہ ریاستیں ٹوٹ کر الگ ہوگئیں۔ اور نقشہ پر اشتراکی ایمپائر کے بجائے صرف سابق روس باقی رہ گیا۔
اشتراکی ایمپائر کے ٹوٹنے میں بہت سے مختلف قسم کے سبق ہیں۔ تاہم اس واقعہ میں دو خاص سبق پائے جاتے ہیں۔ یہاں ان کا مختصر ذکر کیا جاتا ہے۔
پہلا سبق یہ ہے کہ اس واقعہ نے آخری طور پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ خدا اور مذہب کا عقیدہ مکمل طور پر ایک فطری عقیدہ ہے نہ کہ محض سماجی روایات کی پیداوار ، جیسا کہ اشتراکی فلسفہ میں دعویٰ کیا گیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues